جرمنی میں شام میں جنگی جرائم کی مرتکب "داعشی جنگجو" خاتون گرفتار

گرفتار خاتون کا تعلق فرانس ہے مگر یہ معلوم نہیں کہ آیا وہ جرمنی کیوں آئی تھی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمن حکام نے جمعرات کو کہا ہے کہ انہوں نے ایک فرانسیسی خاتون کو شام میں جنگی جرائم کے ارتکاب اور شدت پسند گروپ ‘داعش‘ میں شمولیت کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

جرمنی کے ایک وفاقی پراسیکیوٹر نے وضاحت کی کہ خاتون جس کی شناخت صرف ’سمرہ ن‘ کے نام سے ہوئی ہے کو جرمن رازداری کے قوانین کے مطابق منگل کو ملک کے مغربی شہر ٹریر سے گرفتار کیا گیا ہے۔

استغاثہ کے بیان کے مطابق خاتون پر نو عمری میں دو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی رکن کے طور پر حصہ لینے کا شبہ ہے۔

اس نے مبینہ طور پر ستمبر 2013ء میں شام کا سفر کیا جہاں اس نے پہلے النصرہ فرنٹ میں شمولیت اختیار کی اور اس گروپ کے ایک جنگجو سے شادی کی اور نومبر 2013 میں اس جوڑے نے شدت پسند گروپ داعش میں شمولیت اختیار کی۔

شام میں رہتے ہوئے سمرہ نے مبینہ طور پر جرمنی میں رہنے والے لوگوں کو النصرہ فرنٹ کا رکن بننے کے لیے شام جانے کے لیے بھی قائل کرنے کی کوشش کی۔ اس میں عارضی طور پر ایک خاتون کو بھی رکھا گیا تھا جسے اس طرح ملک چھوڑنے پر آمادہ کیا گیا تھا۔

فرد جرم کے مطابق ملزمہ نے اپنے شوہر کو تنظیم کے لیے فوجی ساز و سامان خریدنے میں مدد کی۔

دو مواقع پر جب اس کا شوہر جنگی مشنوں پر گیا تھا وہ مقامی لوگوں کو نکالے جانے کے بعد ’داعش‘ کے زیر قبضہ گھروں میں رہی جسے جرمنی میں جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔

سمرہ 2014ء کے آغاز میں جرمنی واپس آئی لیکن پبلک پراسیکیوشن کے مطابق کم از کم فروری 2015 تک وہ داعش کی رکن رہی تھی۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ فرانسیسی شہری کے طور پر جرمنی کیوں گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں