سعودی عرب کا صحت مند بڑھاپے پر تحقیق کیلئے خطیر گرانٹ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب کے ایک ارب ڈالر سالانہ اخرجات کے حامل صحتمند طویل عمری پر تحقیق و ترقی کے غیر منافع بخش پرگرام، ہیوولوشن فاؤنڈیشن نے ریاض میں ہونے والے افتتاحی گلوبل ہیلتھ اسپین سمٹ (Global Healthspan Summit) کے اختتامی دن طویل عمری سے متعلق سائنس کے شعبے میں پیش رفت کے لیے40 ملین ڈالر کی تحقیقی گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔


واضح رہے کہ 2021 میں اپنی نوعیت کی پہلی عالمی غیر منافع بخش تنظیم ہیوولوشن فاؤنڈیشن کا سعودی عرب میں قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ فائونڈیشن ہیلتھ اسپین سائنس کے ابھرتے ہوئے میدان میں آزاد انہ تحقیق کو ترغیب دینے کے لیے گرانٹس اور ابتدائی مرحلے کی سرمایہ کاری فراہم کرتی ہے۔ ریاض میں صدر دفتر کے علاوہ اسکا شمالی امریکہ میں مرکز قائم کیا گیا ہے جبکہ دیگر عالمی معروف شہروں میں دفاتر کھولنے کا منصوبہ ہے۔ فاؤنڈیشن نے صحتمند مستقبل کے وژن اور مشن کو سپورٹ کرنے کے لیے کلیدی اہداف مقرر کئے ہیں۔


فاؤنڈیشن نے ہر سال ایک ارب ڈالر کے بجٹ کے ساتھ سائنسی تحقیق کے مختلف منصوبوں اور ان سے جڑے علاج معالجہ کو مارکیٹ میں لانے کے عزم کے ساتھ کا م کا آغاز کیا ہے۔


واضح رہے کہ عالمی سطح پر عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں کسی بھی دوسرے عمر کے افراد کے مقابلے میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں 80 فیصد بوڑھے لوگ 2050 تک کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہائش پذیر ہونگے۔ جبکہ اسی مدت تک2.1 ارب افراد کی عمر 60 سال سے زیادہ ہوچکی ہوگی۔مزید برآں 2050 تک عالمی اوسط متوقع عمر 72.3 سال ہوگی۔


سمٹ میں جمعرات کو فنڈنگ کے بڑے اعلانات میں ابتدائی وعدوں کے مطابق 40 ملین ڈالر شامل ہیں جن میں بَک انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ آن ایجنگ کے ساتھ شراکت کے لیے 21 ملین ڈالر کی گرانٹ سے خاص طور پر بڑھاپے کے علاج جیسی مداخلتوں کو دریافت کرنا شامل ہے۔


اس کے علاوہ امریکن فیڈریشن آف ایجنگ ریسرچ کے ذریعے نیو انوسٹی گیٹر ایوارڈ پروگرام کے تحت طویل عمری حیاتیات اور جیروسائنس کے شعبوں میں کام کو آگے بڑھانے کے لیے مزید 16 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا۔ ان ایوارڈز کے وصول کنندگان صحت مند عمر بڑھانے کے لیے طویل عمری حیاتیات بارے تحقیق کے شعبے سے متعلق ہیں۔


مزید برآں پانچ ملین ڈالر سعودی عرب اور خلیجی خطے میں طویل عمری حیاتیات اور جیرو سائنس کے شعبوں میں ابتدائی مرحلے کے سائنسدانوں کے کیریئر کو آگے بڑھانے کے لیے 15 پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو شپس کیلئے خرچ کئے جائیں گے۔


ہیولیشن فائونڈیشن کا ایک اور تاریخی قدم ایکس پرائز فاؤنڈیشن کے اشتراک سے 101 ملین ڈالر کی خطیر رقم کے انعامی فنڈ سے دنیا کے سب سے بڑے مقابلےکا اعلان بھی ہے جو انسانی ترقی کیلئے زبردست پیش رفت کو بڑھاوا دینے کیلئے شروع کیا جا رہا ہے۔


ہیوولیوشن فاؤنڈیشن کے سی ای او ڈاکٹر محمود خان نے اس حوالے سے کہا کہ صحت کے شعبے میں تحقیق کو تیزی سے انجام دینے اور مؤثر ہیلتھ اسپین سائنس پروگراموں کی حمایت کرنا ہمارے فنڈنگ کیلئے بنیادی اصولوں میں شامل ہیں۔ باہمی اشتراک کے ذریعے، ہم طویل عمری حیاتیات کے شعبے میں ناقابل یقین صلاحیت پیدا کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں اور ہمہ گیر صحت کو بہتر بنانے کے لیے نئے حل کی تلاش کیلئے راہ ہموار کر رہے ہیں۔


ریاض میں ہونے والا یہ سمٹ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا بین الاقوامی اجتماع تھا جس میں 120 سے زیادہ معزز مقررین اور تقریباً 2000 مندوبین شریک تھے جس کا مقصد ایک صحت مند طویل عمری پر مشتمل مستقبل کو فروغ دینے سے جڑے موضوعات کو زیر بحث لانا تھا ۔


شہزادی ڈاکٹر حیا خالد السعود، ہیوولوشن فاؤنڈیشن کی نائب صدر برائے تنظیمی حکمت عملی اور ترقی ہیں۔ انہوں نے اس سمٹ کے انعقاد کے حوالے سے بتایا کہ ایک سعودی سائنسدان ہونے کے ناطے انہیں اس بات پر بے حد فخر ہے کہ کس طرح گلوبل ہیلتھ اسپین سمٹ نے مملکت میں سوچ کے اس تنوع کے حامل افراد کو اکٹھا کیا ہے۔ اس اجتماع نے نئے روابط بنائے ہیں جو صحت کے شعبے کو سب کے فائدے کے لیے تشکیل دینے میں مدد دیں گے اور ان کوششوں میں مصروف افراد کو متحرک کریں گے۔ یہ ایک مضبوط، افراد کو زیادہ مصروف عمل کرنے، اور عمل پر اقدامات کیلئے عالمی تعاون کے حصول کا ایک لانچ پیڈ ہے جو دنیا کے بہترین دماغوں کو غیر صحت مند طویل عمری کے عالمگیر چیلنج کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ترغیب دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں