ہم نے کبھی صہیونیوں کو سمندر میں پھینکنے کی بات نہیں کی: علی خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک ایسے وقت میں جب خطے میں ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپوں کے بیانات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان بیانات میں اسرائیل اور صیہونیوں سے لڑنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای نے ایک اہم بیان دے دیا اور کہا کہ جو بھی ایران پر صہیونیوں کو سمندر میں پھینکنے کی کوشش کرنے کا الزام لگاتا ہے وہ جھوٹا ہے۔

علی خامنہ ای نے بدھ کو ’’ ایکس‘‘ پر عربی اکاؤنٹ پر کہا کہ دنیا میں کچھ لوگ اس وقت جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں جب وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران کہتا ہے کہ یہودیوں اور صیہونیوں کو سمندر میں پھینک دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی ایسا نہیں کہا بلکہ ہمارا ملک یہ سمجھتا ہے کہ عوام کے ووٹ ہی صہیونیوں کی قسمت کا تعین کرتے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان گزشتہ 7 اکتوبر سے جاری لڑائی کے متعلق انہوں نے کہا فلسطینی عوام کے ووٹوں سے بننے والی حکومت یہ فیصلہ کرے گی کہ دوسرے ملکوں سے آنے والے باقی رہیں گے یا چلے جائیں گے۔

ایران کے تین اعلیٰ عہدیداروں نے گزشتہ ہفتے انکشاف کیا تھا کہ ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو اس وقت واضح پیغام دیا تھا جب وہ نومبر کے اوائل میں تہران میں ملاقات کے لیے آئے تھے۔ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ حماس نے 7 اکتوبر کے حملے کے بارے میں ایران کو مطلع نہیں کیا تھا، اس لیے تہران اس جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔

تاہم علی خامنہ ای نے اس وقت ھنیہ کو یقین دلایا تھا کہ ان کا ملک براہ راست مداخلت کئے بغیر حماس کی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ حماس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ایرانی رہنما نے ھنیہ پر زور دیا کہ وہ تحریک حماس کی ان آوازوں کو خاموش کرائیں جو تہران اور اس کے اتحادی حزب اللہ کو جنگ میں شامل ہونے کے لیے کھلے عام کہہ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں