جنوبی غزہ پر اسرائیلی بمباری، امریکی موقف میں تبدیلی کا تاثر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل کی حماس کے خلاف غزہ میں بد ترین بمباری کے باوجود امریکہ کی اسرائیل کے مکمل حمایت پر شدید تنقید کے بعد واشنگٹن نے بدلے ہوئے موقف کا تاثر دیا۔ واشنگٹن کی طرف سے اسرائیل کو اس کے اگلے مرحلے کی جنگ کے دوران جنوبی غزہ میں بھی اسی طرح کی بمباری کرنے سے اپنی اختلافی رائے سے آگاہ کیا ہے۔

ایک سینئیر امریکہ ذمہ دار کا اس سلسلے میں کہنا ہے ' آپ کے پاس جنوبی غزہ سے اسی پیمانے نقل مکانی کرانے کا موقع نہیں ہو سکتا ہے اس لیے شمالی غزہ میں کی گئی بمباری جیسی بمباری کو ہی جنوبی غزہ میں دہرانا مناسب نہیں ہے۔

تاہم امریکہ کی طرف سے ایسا کوئی عندیہ یا عملی اقدام سامنے نہیں آیا ہے جس کا مطلب اسرائیل کی غزہ میں اگلے مرحلے کی جنگ کے دوران جنوبی غزہ پر بمباری سے اسرائیل امریکی حمایت سے محروم ہو جائے گا۔

واضح رہے امریکہ نے ساتھ اکتوبر سے شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ کے بہت ہی آغاز میں اپنے دو بحری بیڑے اسرائیل کی مدد کے لیے بھجوا دیے تھے۔ تاکہ اسرائیل کو جہاں اور جب ضرورت پیش آئے امریکہ اس کےساتھ کھڑا ہو۔

ان بحری بیڑوں کے ذریعے امریکہ نے خطے کہ ملکوں کو بھی پیغام دیا تھا کہ اسرائیل اکیلا نہیں ہے اس لیے کوئی بھی ایسا اقدام نہ کیا جائے جو اسرائیل کے نقصان میں ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے بارے میں مشرق وسطیٰ سے اب تک بڑا ہی محتاط رد عمل سامنے آیا ہے۔

عالمی رائے عامہ ہی نہیں امریکی عوام میں بھی اس امریکی پالیسی اور اقدام پر سخت تنقید جاری ہے، خود ڈیموکریٹس اور وائٹ ہاؤس انتظامیہ میں بھی تفریق اور تضاد سامنے آگیا۔

اس صورت حال میں یہ تو نہیں ہوا کہ امریکہ یا اس کے بڑے یورپ اتحادی اپنی پلایسی میں کوئی عملی تبدیلی لائے ہوں البتہ اب اسرائیل کو جنوبی گزہ میں پہلے والی بمباری کے شدت کی بمباری کرنے سے گریز کا کہا ہے۔ اب تک اسرائیلی بمباری سے صرف غزہ میں لگ بھگ سولہ ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جن میں چھ ہزار کے قریب فلسطینی بچے ہیں۔

امریکہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس پیمانے پر اب جنگ کے اگلے مرحلے میں بھی اسی پیمانے پر جنوبی غزہ میں بمباری نہ کی جائے جس پیمانے پر جنگ کے پہلے مرحلے میں کی گئی تھی۔ لیکن امریکہ نے اپنے اس تاثر پر مبنی موقف کا اظہار جنگ بندی کا وقفہ ہونے پر کیا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ مکمل جنگ بندی کی بھی کھلی مخالفت کرتا رہا ہے۔ نیز حماس کے مکمل خاتمے اور غزہ کے حکومتی کنٹرول میں تبدیلی کے حوالے سے بھی امریکہ اور اسرائیل کی ایک ہی رائے ہے۔

جمعہ کے روز جنگ بندی کے خاتمے کے فوری بعد اسرائیل نے غزہ پر وسیع پیمانے پر بمباری کر کے جنگ کو فعال کر دیا ہے۔ یہ بمباری جنوبی گزہ کی جانب کی گئی ہے۔ جس پر واشنگٹن نے اسرائیل کو بمباری کے طریقے کو بدلنے اور جنوبی غزہ کو بھی نشانہ بنانے سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔

واشنگٹن کے لیے اہم ہے کہ جس طرح شمالی غزہ سے لاکھوں بے گھر ہو کر نقل مکانی کر گئے ہیں۔ اسی طرح جنوبی غزہ سے جبری نقل مکانی کا ہونا بڑا خطرناک ہو جائے گا۔

جوبائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئیر اہلکار کے مطابق جنوبی اور وسطی غزہ میں بیس لاکھ لوگ موجود ہیں۔ اس لیے بمباری کر کے انہیں نقل مکانی پر مجبور نہ کیا جائے۔ بلکہ مزید نقل مکانی روکنے کی راہ نکالی جائے۔

امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن جو اسرائیل کے لیے سات اکتوبر سے مسلسل دوروں پر ہیں۔ گذشتہ روز بھی اسرائیل میں تھے وہ بھی مزید جبری نقل مکانی کے نقصانات کے بارے میں بیان دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں