امریکہ فلسطینیوں کی غزہ یا مغربی کنارے سے جبری بے دخلی کی اجازت نہیں دے گا:کملا ہیرس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی نائب صدر نے حماس اسرائیل جنگ کے بعد کے مطلوب منظر نامے کو واضح طور پر بیان کرتے ہوئے کہا ہے 'غزہ اور مغربی کنارے کو بالآخر ایک حکمرانی کے نیچے آنا چاہیے۔ لیکن امریکہ غزہ اور مغربی کنارے سے فلسطینیوں کو جبری طور پر بے دخل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ 'کملا ہیرس دبئی میں موسمیات کے بارے میں اعالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے دبئی میں تھیں۔

کانفرنس کے دوران مصری صدر عبدالفتح السیسی سے ملاقات کے دوران کملا ہیرس کا اسرائیل اور حماس جنگ کے بارے کہنا تھا' کسی بھی صورت امریکہ فلسطینیوں کی غزہ یا مغربی کنارے سے جبری بے دخلی کی اجازت نہیں دے گا۔ نہ ہی غزہ کے محاصرے کی اور نہ غزہ کی نئی سرحد بندی کی اجازت دے گا۔' یہ بات وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔

امریکی نائب صدر نے یہ بھی کہا ' جب جنگ ختم ہو گی تو غزہ کی تعمیر نو کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔' تاہم اس کا تناظر اس واضح اپج کے ساتھ ہو گا کہ فلسطینیوں کی ایک اپنی ریاست ہوگی جسے فلسطینی اتھارٹی لے کر چلے گی۔ نیز اسے بین الاقوامی برادری کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک کی بھی حمایت حاصل ہو گی۔ '

وائٹ ہاوس کی طرف سے کملا ہیرس کے بیان میں واضح کر دیا گیا ہے ' اب حماس کا غزہ پر کنٹرول نہیں رہے گا، کیونکہ اس کا کنٹرول رہنا اسرائیلی سلامتی کے لیے اچھا نہیں ہے۔ حماس کی غزہ پر حکومت فلسطینی عوام اور علاقائی سلامتی کے لیے بھی اچھی نہیں ہو سکتی۔ '

واضح رہے مغربی ممالک اور امریکہ کی حمایت کے ساتھ فلسطینی اتھارٹیی اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کی حکمران ہے ۔ جبکہ غزہ 2007 سے حماس کے سیاسی و حکومتی کنٹرول میں ہے۔'

پر کملا ہیرس کا جوبائیڈن انتظامیہ میں سلامتی سے متعلق امور اثر بڑھنے کی توقع ہے کیونکہ 81 سالہ صدر جوبائیڈن صدارتی الیکشن دوسری بار لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

انہیں اس پس منظر میں بعض بڑے مسئلوں کو حل کرنے کے متواتر مواقع ملنے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ غزہ کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے امریکی حکام کے فلسطینی اتھارٹی کے دائرہ اختیار کو بڑھانے پر غور کر رہے ہیں، لیکن ابھی یہ محض ایک تجویز کی حد تک ہے۔ کیونکہ بعض امریکی حکام فلسطینی اتھارٹی کی اہلیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں