ایک سو سے زائد روہنگیا پناہ گزین انڈونیشیا کے ساحلی گاؤں پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک سو سے زائد روہنگیا مسلمان نقل مکانی کر کے انڈونیشیا کے ساحلی گاؤں اترے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ آمد انڈونییشیا کے مغربی صوبے آچے میں ہفتے کے روز علی الصبح ہوئی ہے۔

پناہ کی تلاش میں کشتیوں پر انڈونیشیا پہنچنے والے ان روہنگیا مسلمانوں کے تازہ قافلے میں عورتوں اور بچوں سمیت 139 افراد شامل ہیں۔

روہنگیا مسلمانوں کی پناہ کے لیے یہ آمد گذشتہ ماہ آچے پہنچنے والے ایک ہزار پناہ گزینوں کے علاوہ ہے۔ پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ 2015 کے بعد روہنگیا پناہ گزینوں کی یہ سب سے بڑی لہر ہے جو انڈونیشیا پہنچی ہے۔ پناہ کے لیے آنے والے ان روہنگیا مسلمانوں کی وقفے وقفے سے کشتیاں آرہی ہیں۔

حکام کے مطابق ہفتہ کے روز پہنچنے والے روہنگیا مہاجرین کو مقامی لوگ اپنے علاقے میں قبول نہیں کر رہے اور انہیں واپس سمندر کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ روہنگیا مسلمان ایک عرصے سے میانمار میں بد ترین مظالم کا شکار ہیں۔ اس لیے اپنی جان بچانے کے لیے میانمار سے نکلنے پر مجبور ہیں۔ ان کا رخ عام طور پر ملائیشیا اور انڈونیشیا کی طرف رہتا ہے۔

انڈویشیا کے 'آئی میولی' نامی گاؤں کے سربراہ ڈوفا فاضلی نے اپنے گاؤں کے قریب ساحل پر اترنے والے روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں کہا 'جب میں پہنچا تو روہنگیا لوگوں کا اب تک کا آخری گروپ بھی ساحل پر اتر چکا تھا۔'

ڈوفا فاضلی کے مطابق اب تک ان کی تعداد 139 ہے۔ ان میں عورتیں، بچے اور مرد سبھی شامل ہیں۔ تاہم ابھی یہ گنتی نہیں کی گئی ہے کہ مرد کتنے ہیں، عورتیں کتنی ہیں اور بچے کتنی تعداد میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا 'یہ آچے صوبے کے اس گاؤن کے ساحل پر یہ مہاجرین مقامی وقت کے مطابق صبح اڑھائی بجے پہنچے ہیں۔'

واضح رہے 14 نومبر سے لے کر اب تک مجموعی طور پر نصف درجن سے زائد کشتیاں ان روہنگیا مسلمانوں کو لے کر انڈونیشیا کے آچے صوبے میں پہنچی ہیں۔ تاہم ابھی اطلاعات ہیں کہ مزید کشتیاں راستے میں ہیں اور آنے والے دنوں میں پہنچتی رہیں گی۔

اگرچہ کئی کشتیوں پر سوار روہنگیا مسلمانوں کو واپس سمندر کی طرف موڑ دیا گیا ہے اور سمندر میں نگرانی کرنے والی کشتیوں کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے۔

ڈوفا فاضلی نے کہا ' نئے آنے والے روہنگیا پناہ گزینوں کو اگر کوئی کسی اور جگہ نہ بھجوایا گیا تو انہیں سمندر میں واپس دھکیل دیا جائے گا ، لیکن انہیں اس دوران ضروری امداد دی جائے گی۔'

ڈوفا فاضلی نے کہا ' ہم میولی کے رہنے والے ان روہنگیا مہاجرین کی اس علاقے میں آمد کو قبول نہیں کرتے، اگر آج سہ پہر تک حکام نے ان کے بارے میں کوئی اقدام نہ کیا تو ہم خود انہیں ان کی کشتیوں پر بٹھا کر واپس سمندر میں بھیج دیں گے۔'

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے شعبے میں پروٹیکشن ایسوسی ایٹ فیصل رحمان نے بتایا 100 سے زائد روہنگیا مہاجرین ایک اور علاقے سبانگ پہنچے ہیں۔ ان کی طرف بھی حکام جارہے ہیں۔ ہم اس سلسلے میں مقامی حکومت کے ساتھ معاملے کا حل نکال لیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں