بیت لحم میں کوئی کرسمس ٹری نہیں کیونکہ غزہ جنگ میں تعطیلات کم ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اس سال بیت لحم میں کوئی کرسمس ٹری نہیں ہوگا کیونکہ غزہ جنگ کے سائے میں حضرتِ عیسیٰ کی پیدائش کے روایتی مقام پر "دھوم دھام اور بہت زیادہ روشنیوں کے بغیر" تقریبات کا انعقاد ہونا ہے۔

بیت لحم جو مقبوضہ مغربی کنارے میں یروشلم کا ہمسایہ ہے، گذشتہ برسوں سے اسرائیلی اور فلسطینی جھڑپوں کی زد میں ہے۔ لیکن 50 کلومیٹر (30 میل) دور غزہ کی پٹی میں موجودہ تنازعہ سے شہر کے کئی لوگ خاص طور پر متأثر ہوئے ہیں۔

7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں فلسطینی گروپ حماس کے مزاحمت کاروں کے ہاتھوں قتل اور اغوا کے واقعات سے شروع ہونے والی جنگ نے اسرائیل کی جوابی کارروائی میں زیادہ تر غریب علاقوں کو تباہ کر دیا ہے جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔

ہر سال دسمبر کے ابتدائی دنوں میں کرسمس سے پہلے کی آمد کے سیزن کا افتتاح کرنے کے لیے چرچ کے رہنما بیت لحم میں جمع ہوتے ہیں جہاں عموماً سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کھنچی چلی آتی ہے۔ لیکن اس سال پہاڑی شہر کی گلیاں اور پلازے سردیوں کی خشک دھوپ میں زیادہ تر خالی اور سنسان تھے۔

فرانسسکن کے ایک سینئر فرئیر فادر ابراہیم فالٹاس نے چرچ آف دی نیٹی وٹی کے سامنے رائٹرز کو بتایا۔ "ہم نے بیت المقدس کو ایسا کبھی نہیں دیکھا حتیٰ کہ کووڈ-19 کے زمانے میں بھی نہیں۔ یہ قصبہ خالی ہے، اداس ہے۔ آج کا دن ایک خوشی کا دن ہونا تھا۔"

انہوں نے کہا، "فلسطینی "اس جنگ میں شہید ہونے والے کئی بچوں، خواتین، بزرگوں اور لوگوں کے صدمے میں تھے۔" غزہ کے حکام نے فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 15,000 سے زیادہ بتائی ہے جب کہ اسرائیل نے کہا ہے کہ حماس کے ابتدائی حملے میں 1,200 افراد اور غزہ کی لڑائی میں اس کے 70 سے زائد فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

مقدس سرزمین پر چرچ کے سربراہان کے 10 نومبر کے ایک بیان میں "عزیزوں کی غیر یقینی قسمت" سے متأثر ہونے والے لوگوں کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا گیا جو ممکنہ طور پر ان 240 کے قریب افراد کے اہل خانہ اور احباب کے لیے تھا جو حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اور وہ زیادہ تر دنیا سے الگ تھلگ بغیر کسی رابطے کے رکھے گئے۔

بہت سے رہائشیوں کی یادوں میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ کرسمس کا کوئی درخت نیٹی وٹی اسکوائر میں نہیں لگایا گیا جہاں چرچ تہوار کی تقریبات سے ہٹ کر مذہبی خدمات کے انعقاد کے لیے تیار تھا۔

کسٹڈی آف دی ہولی لینڈ چرچ گروپ کے فادر فرانسسکو پیٹن نے کہا، "ہم باوقار طریقے سے منائیں گے۔"

"اس کا مطلب یہ ہے کہ دھوم دھام اور بہت زیادہ روشنیوں کے بغیر انتہائی روحانی طریقے سے اور سکوائر کی نسبت خاندانوں کے درمیان زیادہ منائیں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں