غزہ میں امن کا موقع ضائع کر دیا گیا ۔ طیب ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے 'انسانی بنیادوں پر جنگ میں کیا گیا وقفہ ختم ہونے کے بعد غزہ میں امن کا موقع کھو دیا گیا ہے، اسرائیل کا اس بارے میں رویہ غیر لچکدار ہے۔ '

طیب ایردوآن نے خیالات کا اظہار' این ٹی وی' پر بات کرتے ہوئے کیا ہے۔ وہ غزہ میں اسرائیل کی طرف سے از سر نو شروع کی گئی شدید بمباری کے نتیجے میں فلسطینیوں کی مزید سینکڑوں ہلاکتوں کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا ' ہم نے ہمیشہ مستقل جنگ بندی پر زور دیا ہے، بجائے اس کے کہ انسانی بنیادوں پر جنگ میں وقفے کر کے پھر جنگ شروع کی جاتی رہے۔'

ایردوآن نے کہا ' میں سمجھتا ہوں کہ امن کے لیے ایک موقع مل گیا تھا مگر بد قسمتی سے اسرائیل کے غیر لچک دار انداز نے اسے ضائع کر دیا ہے۔'

یاد رہے اسرائیل حماس جنگ میں وقفوں کا آغاز 24 نومبر سے ہوا تھا، یہ وقفے یکم دسمبر کو ختم ہونے کے بعد اسرائیل نے پھر سے غزہ میں بمباری شروع کر دی، لیکن جنگ بندی میں ایک اور وقفے پر اتفاق نہ ہو سکا۔

صدر ترکیہ نے متحدہ عرب امارات سے وطن واپسی پر رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ' وہ ایک پائیدار امن کی امید رکھتے ہیں اور مایوس نہیں ہورہے۔ لیکن حماس کو مسئلہ فلسطین کے حل سے الگ نہیں رکھا جا سکتا ۔'

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہمیں ' دوریاستی حل پر فوکس کرنا چاہیے، حماس کو منظر نامے سے نکال دینے یا تباہ کردینے کی بات کرنا حقیقت پسندی نہیں ہے۔'

اپنے انٹرویو کے دوران انہیں نے حماس کے بارے ایک سوال پر کہا وہ حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم نہیں سمجھتے ہیں۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ' او آئی سی کی طرف سے فلسطین پر قائم کیا گیا رابطہ گروپ امریکہ کے دورے پر بھی جائے گا اور غزہ جنگ کا ممکنہ حل سامنے کے لیے بات چیت کرے گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں