قیدیوں کی فہرست دینے میں ناکام حماس سیز فائر خاتمہ کی ذمہ دار ہے: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ امریکہ غزہ کی پٹی میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی میں توسیع کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوگئی ہیں۔

قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا کہ ہم اسرائیل، مصر اور قطر کے ساتھ غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی میں توسیع کی کوششوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صدر بائیڈن قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کی مدت میں توسیع کی کوششوں میں شامل رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں حماس کی طرف سے قیدیوں کی فہرست فراہم کرنے میں ناکامی جنگ بندی میں توسیع نہ ہونے کی وجہ بنی ہے۔

جنگ بندی کا معاہدہ پہلے چار روز کے لیے طے پایا، پھر اس میں دو روز توسیع کی گئی، اس کے بعد پھر ایک مرتبہ توسیع کی گئی۔ دو مرتبہ توسیع کے بعد ساتویں روز تیسری توسیع نہ ہوسکی اور اسرائیل نے 7 روزہ وقفہ کے بعد غزہ کی پٹی پر دوبارہ وحشیانہ بمباری کرکے مزید 178 فلسطینیوں کو شہید اور 589 کو زخمی کردیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے تل ابیب پر زور دیا کہ وہ اپنی کارروائی کو جنگی قوانین کے مطابق رکھے۔

بلنکن نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو سمجھایا ہے کہ اسرائیل کو جنوبی غزہ کی پٹی میں اپنی کارروائیاں شروع کرنے سے پہلے شہریوں کے تحفظ کے ذرائع فراہم کرنا ہوں گے۔

اسرائیلی بمباری اور زمینی مہم کی وجہ سے غزہ کی پٹی میں آباد 23 لاکھ افراد میں سے 3 چوتھائی بے گھر ہوگئے ہیں اور غزہ کی پٹی ایک بڑے انسانی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 16,000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ بچے اور خواتین ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں