فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی قبضے اور جبر کو دفاع کا نام نہیں دیا جا سکتا:ترکیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر قبضے اور فلسطینیوں پر جاری ظلم و جبر کو اس کا دفاع قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس موقف کا اظہار ترکیہ کی وزارت خارجہ نے کیا ہے۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا ' موجودہ مسئلے کی جڑ اسرائیلی قبضہ ہے، اسی طرح اس کی توسیع پسندانہ ذہنیت ظالمانہ اقدامات بھی قانون اور انسانی حقوق کے کائناتی اصولوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہیں۔'

ترجمان ترکیہ نے مزید کہا ایک قابض ریاست کی طرف سے ' شہری آبادی کے خلاف ظالمانہ اور بے رحمانہ طاقت کا استعمال کبھی قانونی یا جائز حق دفاع قرار نہیں پا سکتا ہے۔'

ترک ترجمان کیسیسلی نے کہا ' تاریخ بتاتی ہے کہ اسرائیل کا فلسطینیوں کے خلاف ظلم اور جبر جتنا بڑھتا گیا اور اسرائیل فلسطینیوں کے حق آزادی کو جس قدر تباہ کرتا گیا اس کے بعد فلسطینی مزاحمت میں اسی قدر اضافہ ہوتا رہا کیونکہ اسرائیلی جبر کے نتیجے میں فلسطینیوں میں شعور اور بڑھتا رہا اور اپنے انفراد و اجتماعی حقوق کی تڑپ زندہ ہوتی رہی۔'

ترکیہ کی طرف سے اس موقف کا اظہار اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جو انہوں نے 'ایکس' پر جاری کیا تھا' کہ کل کے بعد غزہ میں حماس اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں موجود نہیں ہوں گی۔ ہم غزہ کو حماس سے آزاد کرائیں گے تاکہ اسرائیل کی سلامتی ممکن رہے اور علاقے کے لوگوں کو ایک اچھا مستقبل مل سکے۔'

اسی بیان میں ایلی کوہن نے ترکیہ کے بارے میں کہا ' ہم آپ کی حماس دہشت گردوں کی میزبانی کرنے کی پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔حماس کے دہشت گرد ابھی ختم نہیں ہوئے مگر غزہ سے فرار ہو کر جا رہے ہیں۔ '

ترکیہ تاریخی طور پر فلسطینی مزاحمت کاروں کےساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والا مسلمان ملک ہے۔ جبکہ حماس کو اکثر امریکہ اور یورپ کی طرف سے دہشت گرد کہا جاتا ہے۔

امریکہ اور یورپ کے ملک اس سات اکتوبر سے جاری جنگ میں بھی اسرائیل کے ساتھ کندھےسے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ واضح رہے اس تازہ اور جاری جنگ میں اب تک سولہ ہزار کے لگ بھگ فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان ہلاک شدگان میں بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔ مگر امریکہ اور یورپ کی مدد سے اسرائیل یہ جنگ لڑ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں