برطانوی طیارے یرغمالیوں کی تلاش اور نگرانی کے لیے اسرائیل اور غزہ پر پرواز کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ کے بعد برطانیہ نے بھی اپنے جنگی قوت کا اسرائیل حماس جنگ میں استعمال شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں برطانیہ نے احتیاط پر مبنی ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے جنگی طیارے اسرائیل کے یرغمالیوں کی تلاش اور نگرانی کے لیے بحیرہ احمر اور غزہ اور اسرائیل کی فضاؤں میں پرواز کریں گے۔ برطانوی وزارتِ دفاع کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ پہلے ہی بحیرہ احمر میں امکانی طور پر حملوں کے بارے میں رپورٹس سامنے لاچکا ہے اور اپنے متعلقہ پارٹنرز کو آگاہ کرچکا ہے۔

تاہم برطانوی وزارتِ دفاع نے اسرائیلی یرغمالیوں کی تلاش اور نگرانی کو ہی اپنی ان فضائی سرگرمیوں کا محور بتایا ہے اور اس بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے کہ بحیرہ احمر میں موجود جنگی ہتھیاروں کو خطرات کے بارے میں وہ اطلاعات تک کیسے پہنچا۔

برطانوی وزارتِ دفاع کا اپنی فضائیہ کے طیاروں کو نگرانی کے مقصد کے لیے ٹاسک دینے سے تعلق بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے دہشتگردانہ حملے کے ساتھ ہی اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر مصروف عمل ہوگیا تھا۔ اس کی اس مصروفیت کا محور یرغمالیوں کو چھڑوانا رہا ہے۔

برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق غزہ میں قید کئے گئے قیدیوں میں چونکہ برطانوی قیدی بھی شامل ہیں اس لیے انہیں چھڑوانا اور اس کے لیے کردار ادا کرنا اس کی اولین ترجیح ہے.

ہفتے کے روز جاری کئے گئے برطانوی وزارتِ دفاع کے بیان میں یرغمالیوں کو چھڑائے جانے والی کوششوں کی بھی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔

واضح رہے اب تک قطر اور مصر کی کوششوں کے نتیجے میں 105 اسرائیلی یرغمالی رہا ہوچکے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ ساری رہائیاں مذاکراتی عمل اور ثالثی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہیں جبکہ برطانیہ نے 105 یرغمالیوں کی رہائی کے بعد اپنے جنگی طیاروں کو اس مقصد کے لیے جونکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانوی وزارتِ دفاع کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے جنگی طیارے بغیر اسلحے کے پرواز کریں گے اور کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں ہوں گے۔ محض یرغمالیوں کی تلاش اور نگرانی کا کام کریں گے۔

بیان میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ اس دوران ملنے والی معلومات میں سے صرف یرغالیوں سے متعلق اطلاعات متعلقہ فریقوں کو منتقل کی جائیں گی۔ یاد رہے برطانیہ کے اس اعلان کے ساتھ ہی ساتھ اسرائیلی نیتن یاہو نے موساد کی ٹیم کو قطر سے واپس بلا لیا تھا اور یرغمالیوں سے متعلق مذاکراتی عمل کو رکوا دیا تھا.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں