فلسطین اسرائیل تنازع

مشرق وسطیٰ : امریکی کیرئیر گروپ نے ایرانی ڈرون روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی فوج نے ایرانی ڈرون طیارہ مار گرایا ہے۔ اتوار کے روز امریکی ' سینٹ کام کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے بتایا ہے کہ ایک غیر محفوظ انداز سے اور نان پروفیشنل طریقے سے آگے بڑھنے والے ایرانی ڈرون طیارے کو خلیجی علاقے میں روک دیا ہے۔

امریکی طیارہ بردار جہاز خلیج میں آپریٹ کر رہا ہے۔ جس نے اس ایرانی ڈرون کو گرایا ہے۔ سینٹ کام کے جاری کردہ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ' امریکی بحریہ سے متعلق جہاز اور اس کے فوجی بین الاقوامی قانون کے مطابق خطے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔

تاہم امریکہ کی طرف سے جاری کردہ اس بیان میں مزید کوئی تفصیل نہیں دی گئی ہے۔ جبکہ ایران نے اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

واضح رہے امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں دو طیارہ بردار جہاز بھیج رکھے ہیں۔ تاکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے دوران خطے میں اپنی فوجی موجودگی دکھا کر اس جنگ کو مزید پھیلنے سے روکے رکھے۔

سات اکتوبر کے بعد امریکہ نے پہلا طیارہ بردار جہاز جیرالڈ فورڈ اس علاقے کے سمندر میں بھیجا تھا۔ یہ امریکہ کا سب سے بڑا بحری بیڑا ہے۔ اس کے بھیجنے کا مقصد ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کو جنگ میں کودنے سے باز رہنے کا پیغام دینا تھا۔

خیال رہے بدھ کے روز امریکہ نے حوثیوں کی طرف سے ایرانی ساختہ ڈرون یمن سے اڑایا گیا تھا۔ سینٹ کام کے بیان کے مطابق ' صنعا کے وقت کے مطابق تقریباً گیارہ بجے جنوبی بحیرہ احمر میں گائیڈڈ میزائل ڈی ڈی جی 64 نے ایرانی ساختہ ڈرون طیارہ کے اے ایس 04 روکا ۔ یہ ایک بغیر پائلٹ کے ڈرون تھا جسے حوثیوں نے یمن سے اڑایا تھا۔'

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 'اس ڈرون کے ارادے کا اندازہ نہیں ہے تاہم یہ طیارہ بردار جہاز کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ا سکو مار گرایا گیا ہے اور شخص زخمی ہوا ہے نہ کوئی نقصان ہوا ہے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں