اسرائیل کی ممکنہ سٹریٹجک شکست سے امریکہ پریشان ،

امریکی دفاع کا غزہ کی آبادی کو دشمن کی طرف نہ دھکیلنے کا مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ 'غزہ کے شہریوں کا تحفظ اسرائیل کی اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ سٹریٹجک ضرورت بھی ہے۔ اس لیے ہم اسرائیل کو مسلسل زور دے کر بتاتے رہیں گے کہ شہریوں کو تحفظ دے اور ان کے لیے امدادی بہاؤ میں تیزی آنے دے۔'

انہوں نے کہا 'یہ کام اولین ضرورت بھی ہے، اہم ترین بھی، صحیح ترین بھی اور اسرائیل کے لیے سٹریٹجک اہمیت کا بھی حامل بھی۔ ' آسٹن نے یہ بات رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہی ہے۔

انہوں نے اس موقع پر اسرائیل کی غزہ میں جنگ کا امریکہ کی عراق میں جنگ سے تقابل کرتے ہوئے کہا امریکہ نے عراق میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کے خلاف آبادی کے اندر لڑائی لڑی ہے۔

'اس کا سبق جو میں نے لمبے عرصے میں عراق میں لڑی جانےوالی جنگ سے سیکھا ہے۔ اس میں شہری جنگ کے حوالے سے ایک دو باتیں بہت اہم ہیں ، کیونکہ انہیں کی وجہ سے ہم داعش کو عراق میں شکست دینے میں کامیاب ہوئے، میں سمجھتا ہوں حماس کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ '

لائیڈ آسٹن نے کہا ' داعش کے شہروں میں بڑے اثرات بن چکے تھے۔ اس لیے بین الاقوامی جنگی اتحاد کو شہروں میں داعش کے خلاف لڑائی میں بہت سخت محنت کرنا پڑی تاکہ شہریوں کو جنگ کے باوجود بچایا جا سکےاور انسانی بنیادوں پر بھی چیزیں آگے بڑھا سکیں۔ ہم نے عراق میں جنگ کے دوران اس چیز کا مشکل ترین وقتوں میں بھی خیال رکھا ۔'

امریکی وزیر دفاع نے زور دیتے ہوئے کہا ' شہروں کے اندر جنگ جیتنے کی ایک ہی صورت ہے کہ آپ شہریوں کی ہلاکتیں نہ کریں بلکہ انہیں تحفظ دیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا ' آپ نے اس طرح کی جنگوں میں دیکھا ہے جنگ کا مرکز ثقل شہری آبادی ہی ہوتی ہے۔ اس لیے اگر آپ انہیں ہی دشمن کے بازوں اور اسلحے کی طرف دھکیل دیں گے تو آپ کی اسلحے کی بنیاد پر ہونے والی فتح سٹریٹیجک شکست میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ '

انہوں نے کہا اس بارے میں وہ اسرائیلی اعلیٰ عہدے داروں کو بار بار واضح طور پر بتا چکے ہیں۔ 'میں انہیں کہا ہے کہ فلسطینی عوام کو غزہ میں ہلاکتوں سے بچانا اسرائیل کی اخلاقی ذمہ داری کے علاوہ حکمت عملی کی ضرورت بھی ہے۔ '

فلسطنی خبر رساں ادارے ' وفا ' نے ہفتے کے دن رپورٹ کرتے ہوئے کہا سینکڑوں معصوم شہری بشمول بچوں اور عورتوں کے ہلاک ہوئے ہیں۔ اب تک فلسطینیوں کی غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 16000 سے متجاوز ہو چکی ہے۔ جن میں 6500 بچوں اور 4500 عورتوں کی ہلاکتیں شامل ہیں ہو چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں