نریندرمودی اور مالدیپ کے صدر محمد معز کے درمیان ملاقات،مالدیپ کا فوج واپسی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارتی وزیر اعظم اور مالدیپ کے صدر محمد معز کے درمیان ملاقات میں ایک دو طرفہ ' کور گروپ ' قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کیا جاسکے۔ یہ بات بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے کہی گئی ہے۔

اس ملاقات کے دوران مالدیپ کے جزیرے پر موجود بھارتی فوج کو مالدیپ نے واپس لے جانے کا بھی مطالبہ کیا۔ دونوں نے رہنماؤں نے اس وجہ سے پائی جانے والی باہمی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ واضح رہے مالدیپ اپنے جزیرے میں بھارتی فوج کی موجودگی کو اپنی سلامتی و خود مختاری کے خلاف سمجھتا ہے۔

نریندر مودی اور محمد معز کے درمیان یہ ملاقات دبئی میں موسمیاتی چلنجوں کے خلاف عالمی کانفرنس کے موقع پر ہوئی۔مالدیپ کے صدر محمد معز اسی سال ستمبر میں صدارتی منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ وہ ایسی جماعت کے سربراہ ہیں جو چین سے قرضوں کا خیر مقدم کرتی ہے اور اپنی سرزمین پر بھارتی فوج کی موجودگی کو ناپسند کرتی ہے۔

خیال رہے مالدیپ کی 500000 کی آبادی 187 جزیروں میں پھیلی ہوئی ہے۔ مالدیپ اپنے قدرتی جزیروں کی وجہ سے سیاحوں کی دلچسی کا ایک اہم ملک ہے۔

مالدیپ میں اس وقت بھارتی فوجیوں کا ایک دستہ جو 70 فوجیوں پر مشتمل ہے ایک ریڈار سٹیشن کو چلا رہا ہے تاکہ فضا سے ممکنہ خطرات کی نگرانی کر سکے۔ یہ ریڈار ان بھارتی طیارہ بردار جہازوں کے لیے جو خصوصی اکنامک زون میں نقل و حرکت کرتے ہیں۔

جبکہ بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ہری کمار نے محض چند روز پہلے ہی رپورٹرز کو بتایا ہے کہ مالدیپ میں موجود بھارتی فوجی مالدیپ کے لوگوں کو طبی ضروریات کے لیے انخلا میں مدد دیتے ہیں ۔نیز مالدیپ کی سمندری حدود میں غیر قانونی چیزوں کو روکتے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ قطر میں بھارتی بحریہ کے آٹھ سابق افسران کو جاسوسی کے الزام میں سنائی گئی سزائے موت کے بعد بھارت کے آس پاس کے ملکوں میں زیادہ محتاط رہنے کا رجحان آ رہا ہے۔ پاکستان میں حاضر سروس نیول افسر یادیو کلبھوشن دہشت گردی کے الزام میں قید ہے۔

ادھر امریکہ اور کینیدا میں بھی بھارتی سکیورٹی اداروں کے بارے میں ایک مختلف تاثر سامنے آیا ہے۔ اس لیے مالدیپ کے صدر کے سامنے شاید یہ ساری چیزیں لائی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں