امریکی بحری بیڑے’آئزن ہاور‘کی اتحادیوں کی مدداور ڈٰیٹرینس کےلیےخلیجی پانیوں میں آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چند روز قبل امریکی طیارہ بردار بحری جہاز آئزن ہاور آبنائے ہرمز کو عبور کر کے بغیر کسی اہم واقعے کے خلیج عرب کے پانیوں میں داخل ہو گیا۔

ایران نے ایک بہت بڑے امریکی بحری جہاز کے ڈرون کے ذریعے لی گئی ایک ویڈیو جاری کی ہے۔ دوسری طرف پانچویں فلیٹ نے ایک بیان جاری کیا جس میں اس نے ایران پر "سلامتی اور پیشہ ورانہ اصولوں کی خلاف ورزی" کا الزام عاید کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈرون کچھ فاصلے پر تھا جو طیارہ بردار بحری جہاز سے 1,500 میٹر کے فاصلے پر دیکھا گیا تھا۔

کچھ دن بعد ایک اورڈرون نے طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب اڑان بھری اور اسے امریکی فورسز نے روک لیا۔ سینٹرل کمانڈ نے یہ نہیں بتایا کہ بردار جہاز کو کسی قسم کا خطرہ لاحق تھا۔

امریکیوں نے اپنے بیان میں اس بات کا بھی ذکر نہیں کیا کہ دونوں ڈرونز نے کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کی بلکہ بین الاقوامی پانیوں سے گذرنے والے امریکی جنگی جہازوں کو روکنے کی ایرانی کوششیں بھی نہیں ہوئیں، جیسا کہ انہوں نے 2021 میں کیا تھا۔

بحیرہ روم سے خلیج تک

تاہم اس بڑے طیارہ بردار بحری جہازکو مشرقی بحیرہ روم سے خلیج عرب منتقل کیا گیا جہاں اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائیاں جاری ہیں۔ آپریشنز کے سینٹرل کمانڈ ایریا کی دوسری جانب ان بحری اور فضائی افواج کو ایران کا سامنا کرنا ایک پیغام ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ خلیج عرب کے پانیوں میں موجود یہ بڑی افواج ایک طرف امریکی افواج کی جانب سے اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کی معاونت اور دوسری جانب ایران کا مقابلہ کرنے کا واضح اظہار ہے۔

ڈیٹرنس

انہوں نے واضح کیا کہ عرب ممالک نے ان افواج کی خطے میں موجودگی کی درخواست نہیں کی تھی تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور سیکرٹری دفاع لائیڈ آسٹن نے ان افواج کو سینٹرل کمانڈ کے علاقے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جو امریکا کے۔ "تعاون اورڈیٹرنس" پروگرام کا حصہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں