دنیا کے لیے ’لائف لائن‘ سمجھی جانے والی باب المندب آبی گذرگاہ اتنی اہم کیوں ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں حوثی گروپ نے غزہ کی پٹی پرجنگ کے بعد بحیرہ احمرمیں گذرنے والے اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے باب المندب کا نام عالمی اور علاقائی میڈیا کی توجہ کا مرکز ہے۔

گذشتہ ہفتوں کے دوران حوثی گروپ نے آبنائے عبور کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد اس سے گذرنے والی عالمی تجارت کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

باب المندب کیا ہے اور بین الاقوامی نیویگیشن میں اس کی کیا اہمیت ہے؟

یمنی ساحل آبنائے باب المندب کے ساتھ واقع ہے جو یمن اور جبوتی کے درمیان بحیرہ احمر کے سب سے جنوبی سرے پر ایک تنگ آبی گذرگاہ ہے، جو اسے خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔

آبنائے باب المندب یمن اور جبوتی کے ممالک کے درمیان واقع ہے جوایشیا اور افریقہ کے براعظموں کو الگ کرتا ہے اور پانچ براعظموں کے درمیان میں واقع ہے۔

باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے۔ ایک طرف بحیرہ عرب اور بحر ہند اور دوسری طرف بحیرہ روم واقع ہے۔ اس کی چوڑائی تقریباً 30 کلومیٹر ہے مگریمن جزیرہ بریم میں یہ آبی گذرگاہ دو حصوں میں تقسیم کی جاتی ہے جہاں اس کی چوڑائی مشرقی 3 کلومیٹر اور 30 میٹر گہری ہے۔

"south24" ویب سائٹ کے مطابق اسے دنیا کی مصروف ترین سمندری راستوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے کیونکہ عالمی تیل کی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ اس سے گذرتا ہے۔ باب المندب نہ صرف مشرق وسطیٰ میں اپنے اہم جغرافیائی سیاسی محل وقوع کی وجہ سے اہمیت کی حامل ہے بلکہ یہ یورپ، امریکا اور دنیا کے لیے لائف لائن کا درجہ رکھتی ہے۔

نہر سویز اور آبنائے ہرمز کے ساتھ جڑنے کی وجہ سے اس کی اہمیت میں اور بھی اضافہ ہوا ہے، کیونکہ خلیجی برآمدات اور مشرقی ایشیا سے آنے والی مصنوعات اسی سے گذرتی ہیں۔ اس کے علاوہ باب المندب سے روزانہ تقریباً 3.5 ملین بیرل تل آئل ٹینکروں میں گذرتا ہے۔

اس اہم آبنائے بند ہونے کی صورت میں آئل ٹینکرز نہر سویز سے گذرنے کے بجائے کیپ آف گڈ ہوپ کے ذریعے افریقی براعظم کے گرد گھومنے پر مجبور ہو جائیں گے اور اس سے تیل کی نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

دھمکی اور نفاذ

قابل ذکر ہے کہ یمن میں حوثی گروپ نے غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان گذشتہ سات اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ کے پھیلاؤ کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

اس نے گذشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ "ہر قسم کے بحری جہازوں کو نشانہ بنائے گا، چاہے وہ اسرائیلی جھنڈا لے کر چل رہے ہوں، اسرائیلی کمپنیاں چلا رہی ہوں یا اسرائیلی کمپنیوں کی ملکیت ہوں۔ وہ کوئی رعایت نہیں برتیں گے"۔

اس نے اپنی دھمکی پورا بھی کیا اور اسرائیلی بحری جہازوں پر حملہ کیا۔ اس کے ساتھ اسرائیلی سائٹس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔

حوثی گروپ نے بارہا اعلان کیا کہ وہ غزہ پر اسرائیلی حملے بند ہونے تک اسرائیل کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانا جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں