ہالینڈ ، غزہ پر حملوں کے لیے اسرائیل کوجیٹ طیاروں کے پرزے دینے پر مقدمہ بھگتے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ہالینڈ کو اسرائیل کی غزہ کے شہریوں کے خلاف بدترین بمباری کے لیے جہازوں کے پرزے فراہم کرنے کے جرم میں عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پیر کے روز ہالینڈ کی انسانی حقوق کی تین تنظیمیں عدالت کے سامنے مقدمہ لے کر گئی ہیں کہ ہالینڈ نے غزہ پر بمباری کرنے والے ایف 35 طیاروں کے لیے اسرائیل کو پرزے فراہم کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہالینڈ کی ایک اسلحہ کمپنی آکسفیم کو بھی عدالت میں اسی سلسلے میں مقدمہ کی زد میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مقدمہ ہیگ کی ایک ضلعی عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔ مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جنگی طیاروں کے پرزے اسرائیل کو فراہم کرنے کا مطلب غزہ کی پٹی پر بم پھینکنے میں سہولت اور مدد دینا ہے۔

اس بنیاد پرعدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ' اسرائیل نے بنیادی جنگی قوانین کی پرواہ نہں کی ہے، نیز بمباری کرتے ہوئے فوجی اہداف اور شہری آبادیوں کے درمیان فرق نہیں رکھا ہے۔ اسی طرح جوابی حملے میں دشمن کے نقصان کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں اور کس حد تک نہیں اس بارے میں بھئ تناسب کا خیال نہیں رکھا ہے۔ '

واضح رہے ہالینڈ امریکی ساختہ ایف 35 جنگی طیاروں کے لیے علاقائی سطح کا پرزے بیچنے والا ڈیلر ہے۔ اسی کی طرف سے اسرائیل سمیت کئی دوسرے ملکوں کو ایف 35 طیاروں کے فاضل پرزے فراہم کیے جاتے ہیں۔

اسرائیل کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے علاوہ بین الاقوامی جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں کا الزام انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں اور ملک بھی لگا چکے ہیں۔ ان کے الزم کی وجہ اسرائیلی بمباری سے فلسطینیوں ، ان کے بچوں اور عورتوں کی پندرہ ہزار سے زائد ہلاکتیں ہیں۔ صرف بچوں کی ہلاکت 6500 سے زائد ہو چکی ہیں۔

برطانیہ کی ایک اسلحہ ساز کمپنی کے باہر برطانوی شہریوں نے احتجاج کر کے اسرائیل کو اسلحہ سپلائی سے روکا تھا، جبکہ بعض دوسرے یوپی ملکوں میں اسلحہ فیکٹریوں کی یونینوں نے اسرائیل کو اسلحہ فراہمی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ملکوں نے اسرائیل کو اسلحے اور جہازوں کے بھجوانے تک ہر سہولت اور مدد بھی دینے کا فیصلہ کیا۔

اسرائیل نے بمباری کر کے غزہ کے شہریوں کے مکانات کی 80 فیصد تعداد تباہ کر دی ہے، حتیٰ کہ تعلیمی ادارے اور ہسپتال تک تباہ کر دیے۔ بمباری کر کے اور بجلی و پانی کی ترسیل کو نقصان پہنچا کر ادویات کی فراہمی بند کر کے سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت کی ہسپتالوں کے اندر راہ ہموار کر دی۔

نیز ہسپتالوں پر بمباری کر کے ، زخمیوں کو ادویات اور پانی سے محروم کرنے سے بھی اور پانی و بجلی کا نظام برباد کر دینے پر جنگی جرائم کے مقدمے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ دوسری جانب ہالینڈ کی حکومت نے جنگ کے شروع سے ہی اسرائیل کو ایف 35 کے جنگی پرزے ہنگامی طور پر بھجوانا شروع کر دیے تھے۔

تاہم ہالینڈ کی وزارت دفاع نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ البتہ وزارت دفاع نے پچھلے ہفتے پارلیمنٹ کو ایک خط میں لکھا ہے کہ اس کا نہیں خیال کہ ایف 35 غزہ میں جنگی قوانین اور انسانی حقوق کی کسی سنگین خلاف ورزی میں استعمال ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں