امریکی محکمۂ خارجہ کی سعودی عرب کو نگرانی کے نظام کی ممکنہ فروخت کی منظوری

امریکہ نے متحدہ عرب امارات کو 85 ملین ڈالر میں اے این/ٹی پی کیو-50 ریڈار اور متعلقہ آلات کی ممکنہ فروخت کی بھی منظوری دی۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

محکمۂ خارجہ نے سعودی عرب کو آرای-3اے ٹیکٹیکل ایئر بورن سرویلنس سسٹم ایئر کرافٹ ماڈرنائزیشن اور متعلقہ آلات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے جس کا تخمینہ 582 ملین ڈالر ہے۔

پینٹاگون کے ایک بیان کے مطابق سعودی عرب نے خریدنے کی درخواست کی تھی: سات ایمبیڈڈ گلوبل پوزیشننگ سسٹم/انرشیل نیویگیشن سسٹم (جی پی ایس/آئی این ایس) (ای جی آئی) سیکیورٹی ڈیوائسز، ایئر بورن، منتخب دستیابی اینٹی سپوفنگ ماڈیول (ایس اے اے ایس ایم) یا ایم کوڈ کی صلاحیت کے ساتھ، اور پانچ ایل3 ہیرس بلیک راک کمیونیکیشنز انٹیلی جنس سینسر سویٹس۔

بیان میں کہا گیا، "یہ مجوزہ فروخت موجودہ اور مستقبل کے علاقائی خطرات کا مقابلہ کرنے کی سعودی صلاحیت کو بہتر بنا کر امریکہ کی خارجہ پالیسی کے اہداف اور قومی سلامتی کے مقاصد کی حمایت کرے گی، اس کے دفاعِ وطن کو مضبوط بنائے گی اور امریکی افواج اور خلیجی خطے کے دیگر شراکت داروں کے نظاموں کے ساتھ باہمی تعاون کو بہتر بنائے گی۔"

پینٹاگون نے کہا کہ سعودی عرب کو ان نظاموں کو اپنی مسلح افواج میں شامل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔

بنیادی ٹھیکیدار ٹیکساس میں قائم ایل تھری ٹیکنالوجیز ہوں گے اور مجوزہ فروخت کے نفاذ کے لیے کسی اضافی امریکی حکومت یا ٹھیکیدار کے نمائندوں کو سعودی عرب بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات تقریباً 80 سال پرانے ہیں۔ محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک خلیجی خطے کے استحکام، سلامتی اور خوشحالی کے تحفظ میں مشترکہ مفاد رکھتے ہیں اور "علاقائی اور عالمی مسائل کے ایک وسیع سلسلے پر قریبی مشاورت کرتے ہیں۔

محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب خطے کے پرامن اور خوشحال مستقبل کے لیے کام کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اور سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور فوجی، سفارتی اور مالی تعاون میں ایک مضبوط شراکت دار ہے۔

اس کے علاوہ محکمۂ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کو اے این/ٹی پی کیو-50 ریڈار اور متعلقہ آلات کی ممکنہ فروخت کی منظوری بھی دی جس کا تخمینہ 85 ملین ڈالر ہے۔

پینٹاگون نے کہا، "متحدہ عرب امارات شرقِ اوسط میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم امریکی شراکت دار ہے۔"

امریکہ نے کہا کہ اس فروخت سے اہم بنیادی ڈھانچے اور بڑی اہمیت کے حامل شہری اثاثوں کے ساتھ ساتھ فوجی تنصیبات اور افواج کو راکٹ، توپ خانے اور مارٹر اور بغیر پائلٹ کے فضائی نظام کے خطرات سے بچانے کی کوششوں میں بھی مدد ملے گی۔ "یہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو سیاسی اور عسکری طور پر مزید فروغ دے گا جبکہ امریکی قومی مفادات کو فروغ دینے والے فوجی اور سول ڈیفنس آپریشنز کو انجام دینے میں متحدہ عرب امارات کی اثرانگیزی میں بھی اضافہ ہوگا۔"

واشنگٹن نے کہا ٹی پی کیو-50 ریڈار دشمن اقوام یا مخالف ممالک کے ایجنٹوں سے آنے والے خطرات کو پہچاننے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں