دنیا کا عجیب ریستوران جہاں گاہک تھپڑ کھانے کے پیسے ادا کرتے ہیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ریستوران کا نام سنتے ہی ایک ایسی جگہ کا تصور ذہن میں آتا ہے جہاں پرسکون ماحول میں من پسند کھابوں سے لطف اندوز ہوں۔

مگر جاپان میں ایک ریستوران اس کا الٹ ہے جہاں آنے والے گاہک کھانا کھانے کے ساتھ ہوٹل کے عملے سے زور دار تھپڑ بھی کھاتے اور ان کے بھی پیسے ادا کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ریستوران سےواقف لوگ خود یہاں تھپڑ کھانے آتے ہیں اور مرضی کے مطابق زیادہ سے زیادہ سخت چپیڑیں کھاتے ہیں۔

گاہک جاپان کے جنوبی ساحل پر واقع ناگویا کے ایک ریستوران میں جاتے ہیں جہاں خواتین پر مشتمل عملہ گاہکوں کے چہروں پر تھپڑ رسید کرتا ہے۔

کیمونو پہننے والی ویٹرز بار بار صارفین کے منہ پر تھپڑ رسید کرتی ہیں۔ اس سروس کے عوض وہ 300 ین وصول کرتی ہیں۔ خیال رہے کہ ایک جاپانی ین ’£1.60‘ آسٹریلوی پاؤنڈ کے برابر ہے۔

کچھ ازاکیا یا جاپانی بار میں گاہکوں کو پیچھے سے تھپڑ لگائے جاتے ہیں۔ دھکے اتنے زور دار ہوسکتے ہیں کہ گاہکوں کو ان کی نشستوں سے دھکیل دیا جاتا ہے۔ اس غیر معمولی رسم کی ایک چونکا دینے والی ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے جس ایک آدمی کو ویٹر لڑکی کی قطار کے سامنے بیٹھا ہے اور لڑکی اسے بے دردی سےتھپڑ ما رہی ہے۔

Shachihoko-ya نامی ریستوران 2012ء میں کھولا گیا تھا لیکن سست روی کی وجہ سے بند ہونے کا خطرہ تھا۔ اس ریستوران کے عملے نے ایک عجیب و غریب چال چلی اور گاہکوں کو اس منفرد طریقےسے اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

یہ ایسی کامیابی تھی کہ مینیجرز کو کھانا دینے سے پہلے کے تشدد سے نمٹنے کے لیے مزید خواتین عملے کی خدمات حاصل کرنا پڑیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جو صارفین چاہتے ہیں کہ عملے کا کوئی مخصوص رکن ان کے گال سرخ کرے تو انہیں 500 ین (£2.70) پاؤنڈ کی اضافی فیس ادا کرنی ہوگی۔

کہا جاتا ہے کہ مرد اور خواتین، مقامی اور غیر ملکی دونوں ہی اس تجربے سے اس قدر لطف اندوز ہوتے ہیں کہ وہ تھپڑ مارنے والوں کی خدمات کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

یہ ریستوراں ناگویا کے سب سے مشہورعلاقے نیشیکی سانچومی میں واقع ہے اور اپنے عملے کے پہننے والے ملبوسات کے لیے مشہور ہے۔

مرد ویٹرجنہیں "شاچیہوکو بوائز" کہا جاتا ہے بار کے لوگو سے متاثر سونے کے باڈی سوٹ اور مچھلی کے سائز کے ہیڈ ڈریس پہنتے ہیں جبکہ خواتین عملہ سونے کے کیمونز پہنتی ہے۔

جاپان بڑے پیمانے پر اپنے عجیب و غریب کھانے کے تجربات کے لیے جانا جاتا ہے۔ ٹوکیو میں ایک ریستوراں کو ایلیمنٹری اسکول کے کلاس روم کی طرح سجایا گیا ہے، جس میں عملہ اساتذہ کے لباس میں ملبوس ہے۔

ایک اور ماڈل خون میں بھیگی پناہ گاہ کی نقل کرتا ہے، جہاں نرسوں کے لباس میں ملبوس ویٹریس کے ذریعے گاہکوں کو تنگ سیل میں ہتھکڑیاں لگا کر کھانا دیا جاتا ہے۔

ایک پرسکون آپشن ٹوکیو میں ایک بار ہو سکتا ہے جسے ایک بدھ بھکشو نے بنایا اور چلایا جہاں تمام بارٹینڈر بھکشو ہیں جو جواریوں کو ان کے طرز زندگی کے بارے میں گُرسکھاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں