سعودی ولی عہد سے ریاض میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس کے صدر ولادیمیر پوتن متحدہ عرب امارات کے دورے کے بعد اپنے غیر معمولی دورے پر بدھ کے روز سعودی عرب پہنچے اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔

یہ یوکرین پر حملے کے بعد سابق سوویت یونین سے باہر تیسرا ملک ہے جس کا پوتن نے دورہ کیا ہے جہاں وہ اس سے قبل ایران اور چین کا دورہ کر چکے ہیں اور یہ دورہ وہ ایسے موقع پر کر رہے ہیں جب روس مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

مغرب میں یوکرین کی جنگ پر تنہائی کا سامنا کرنے والے پوتن مشرق وسطیٰ میں اتحادیوں سے ملاقات کر رہے ہیں جہاں وہ تیل، تجارت اور غزہ تنازع پر بات کریں گے۔

کریملن کی جانب سے جاری فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ دارالحکومت ریاض پہنچنے پر صدر پوتن کا متعدد سعودی حکام نے والہانہ استقبال کیا۔

سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ وہ بین الاقوامی سیاست، اسرائیل-حماس جنگ اور تیل کی منڈیوں پر بات چیت کے لیے ملک کے حقیقی حکمران اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ولی عہد نے روسی صدر سے ریاض کے الیمامہ محل میں ملاقات کی۔

روس نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں امن اور سلامتی کے لیے سعودی عرب کے ساتھ چیت کی بہت اہمیت پر زور دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر پیوٹن اور محمد بن سلمان غزہ کی جنگ میں تشدد کی کمی کے طریقوں پر غور کریں گے۔

اس سے قبل روسی رہنما کا متحدہ عرب امارات میں مکمل گھڑ سوار دستے اور موٹر سائیکل کے ساتھ استقبال کیا گیا جہاں انہوں نے صدر شیخ محمد بن زید آل نہیان سے ملاقات کی۔

پیوٹن نے صدارتی محل میں اپنے ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ کی مہمان نوازی کی بدولت ہمارے تعلقات غیر معمولی سطح پر پہنچ گئے ہیں، متحدہ عرب امارات عرب دنیا میں روس کا اہم تجارتی پارٹنر ہے۔

کریملن کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت گزشتہ سال ریکارڈ نو ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی اور پوتن نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تیل اور گیس کے شعبوں میں تعاون کے متعدد منصوبے چل رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات فی الحال اقوام متحدہ کے کوپ 28 موسمیاتی مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے لیکن کریملن نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا پیوٹن اس سلسلے میں کسی تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں۔

پیوٹن اگلے جمعرات کو ماسکو میں بات چیت کے لیے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی میزبانی کرنے والے ہیں کیونکہ دونوں ملکوں نے مغربی پابندیوں کے باوجود اقتصادی اور عسکری تعلقات کو مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

تیل کی آمدن میں اضافے اور اس کی فوج کی جانب سے حالیہ مہینوں میں یوکرین کے جوابی حملے روکنے کی بدولت ماسکو مغربی ممالک کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں سے خود کو نکالنے میں کامیاب رہا ہے اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ شاید پیوٹن کے لیے اب حالات سازگار ہوتے جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں