فلسطین اسرائیل تنازع

چین اور امریکی سفارت کاروں کا غزہ تنازع پر تبادلۂ خیال

جنگ کی شدت کو کم کرنے کی ضرورت پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بیجنگ اور واشنگٹن نے کہا کہ چین اور امریکہ کے اعلیٰ سفارت کاروں نے بدھ کے روز ایک ملاقات میں اسرائیل-حماس تنازعہ پر تبادلۂ خیال کیا اور جنگ کی شدت کو کم کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے "تنازع کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کام کرنے والے تمام فریقین کی اس لازمی بات کا اعادہ کیا۔"

بیجنگ نے کہا کہ وزیرِ خارجہ وانگ یی نے جواباً زور دیا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازعہ کے حوالے سے "اولین ترجیح حملوں اور جنگ کو جلد از جلد ختم کرنا ہے۔"

وزارتِ خارجہ کے مطابق وانگ نے کہا، "بڑے ممالک کو غیرجانبداری اور انصاف پر قائم رہنا، معروضیت اور غیر جانبداری کو برقرار رکھنا، قرار اور سمجھداری کا مظاہرہ کرنا، اور صورتِ حال کو پرسکون کرنے اور بڑے پیمانے پر انسانی آفات کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔"

انہوں نے تنازعہ کے دو ریاستی حل کے لیے بیجنگ کے مطالبات کو دہراتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ "فلسطین کے مستقبل سے متعلق کسی بھی انتظام کو فلسطینی عوام کی مرضی کا عکاس ہونا چاہیے۔"

انہوں نے کہا، "چین اس مقصد کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔"

بلنکن نے حالیہ مہینوں میں شرقِ اوسط کے کئی دورے کیے ہیں جبکہ اسرائیل محصور غزہ کی پٹی پر فلسطینی گروپ حماس کو تباہ کرنے کے لیے اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔

چین کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جس کی علما کی قیادت حماس جس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر مہلک حملے کیے اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ جو اسرائیل کے خلاف دوسرا محاذ کھول سکتی ہے، دونوں کی حمایت کرتی ہے۔

واشنگٹن بیجنگ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ خطے میں امن کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

محکمۂ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا، بلنکن نے بدھ کے روز وانگ کو یہ بھی بتایا کہ بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کے خلاف ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے حالیہ حملوں نے سمندری سلامتی کے لیے "ناقابلِ قبول خطرہ" پیدا کیا ہے۔

فریقین نے گذشتہ ماہ کیلیفورنیا میں امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی سربراہی ملاقات کے دوران "کلیدی امور پر پیش رفت" پر بھی اتفاق کیا جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان فوجی رابطے بحال ہوئے۔

لیکن وانگ نے بلینکن کو چین کے زیرِ حکومت تائیوان جزیرے کے لیے امریکی حمایت کے خلاف بھی خبردار کیا جس پر بیجنگ ملکیت کا دعویدار ہے اور اس نے ایک دن اس پر قبضہ کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اعلیٰ چینی سفارت کار نے "تائیوان کے معاملے پر چین کے پختہ مؤقف پر زور دیا اور مطالبہ کیا کہ امریکہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔"

وانگ نے کہا کہ ریاست ہائے متحدہ کو "تائیوان کی آزادی کے لیے کسی بھی قوت کی حمایت یا اس میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں