ہالی ووڈ سٹارز بھی غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کے لیے نکل آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری ہالی ووڈ میں بھی غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری اور ہزاروں بچوں اور عورتوں سمیت ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا ۔ یہ مظاہرین میں عام لوگ نہیں بلکہ ہالی ووڈ سٹارز تھے، جن میں اداکار اور اداکارائیں دونوں شامل تھے۔ حالیہ جنگی تاریخ کا یہ غالباً پہلا موقع ہے اس اہم فلمی مرکز نے بھی سر عام فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔

واضح رہے تیسرے ماہ میں داخل ہو چکی اسرائیل حماس جنگ کے دوران اب تک امریکہ یورپ وغیرہ میں متعدد سلیبرٹیز کو غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے پر ان کے خلاف انضباطی کارروائی کی جا چکی ہے، انہیں اسرائیل کی طرف سے سخت رد عمل کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ بہت سے میڈیا ورکرز کو امریکہ اور یورپ میں جواب طلبیوں اور نوٹسز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جبکہ اسرائیلی بمباری سے اب تک 80 سے زائد میڈیا ورکرز اور ان کے اہل خانہ کو بمباری کر کے ہلاک کیا جا چکا ہے۔ یہی معاملہ مختلف کھیلوں سے تعلق رکھنے والے سپورٹس پرسنز اور کھلاڑیوں کے ساتھ ہو چکا ہے کہ انہوں نے کسی موقع پر غزہ کے فلسطنیوں کی حمایات کر دی یا فلسطینی پرچم کی تصویر نمایاں کر دی ۔

ہالی ووڈ کے اداکاراوں اور اداکاراؤں کو بھی اس سلسلے میں سنسر شپ کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ جبکہ ان کو غزہ کے حق میں زبانیں بند رکھنے کا بھی مختلف طریقوں سے بتا دیا جاتا ہے، اسی سب کچھ منگل کے روز ہالی ووڈ میں بیسیوں فنکاروں نے غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کا اہتمام کیا۔

اس احتجاجی مظاہرے کا اہتمام ہالی ووڈ میں ' یو ٹی وی ' یونائیٹڈ ٹیلنٹ ایجنسی اور میٹرو گولڈ وین مئیر کے دفاتر کے سامنے درجنوں سٹارز نے جمع ہو کر فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کی ۔ ان میں کئی نے جنگ بندی کے حق میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ۔ اسی طرح مین گزہ ہوں کے نعروں پر مبنی پلے کارڈز بھی اٹھائے ہو ئے تھے۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد احتجاج تھا۔

ورلڈ سٹارز کے اس احتجاج میں فلسطینیوں کے حق میں بات کرنے پر ہالی ووڈ کے بعض اداروں کے ذمہ داروں ک طرف سے لگائی گئی سنسر شپ کے خلاف بھی غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ یہ سنسر شپ ان فنکاروں کے خلاف درحقیقت انہیں کام دینے سے روک دیا گیا ہے۔ گویا میڈیا اور فلم کے ادارے درحقیقت ان فنکاروں کو فلسطینیوں اور اہل غزہ کے حق میں بولنے کی سزا دی جا رہی ہے۔

مظاہرین نے کہا ہالی ووڈ کی اس سلسلے میں ایک تاریخ رہی ہے۔ ایسا پہلے بھی کیا جاتا رہا ہے، ایسٹی چاندلر ایک یہودی مگر فلسطینی کی حمایت میں سرگرم نام ہے۔ ان کا کہنا تھا یہ میکارتھی کے دور میں کیا جاتا تھا مگر اب وہ خود ہی یہ کر رہے ہیں۔ وہ 80 دوسرے ہالی ووڈ سٹارز کے ساتھ ' یو ٹی اے ' کے دفتر باہر موجود تھے۔

مظاہرین نے بیورلی ہلز کے باہر بھی احتجاجی مارچ کیا۔ مظاہرین نے کہا ہالی ووڈ ادا کاروں کے خلاف سنسر شپ لگانے میں کافی بدنام رہا ہے۔ 30 سالہ فلسطین کے حامی احتجاج کرنے والے ہالی ووڈ کے کارکن نے کہا ' اس طرح کی پابندیاں لگا پر بعض فرسٹ کلاس اور اے لسٹ میں شامل فنکاروں کو فلموں میں کام دینے سے منع کر دیا جاتا ہے۔ '

خیال رہے یہ رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ ' یو ٹی اے' نے اکیڈمی ایوارڈ جیتنے والے اداکار سوسان ساراندون کے ریمارکس کی وجہ ست محروم کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ انہوں نے پچھلے ماہ نیو یارک میں فلسطین کی حمایت میں ایک ریلی سے خطاب کیا تھا۔

اسی طرح ایک سٹار میلیسا بریرا کو صرف اس لیے انتقام کا نشانہ بنایا گیا کہ اس نے جاسوسوں والا چشمہ لگایا تھا اور سوشل میڈیا پر فلسطینیوں کے حق میں ایک پوسٹ شئیر کی تھی۔لیکن اس سارے دباؤ کے باوجودمنگل کے روز ہالیو ووڈ فلسطینیوں کے ھق میں آوازوں اور نعروں سے گونج اٹھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں