غزہ : شہری ہلاکتوں میں امریکی اسلحہ استعمال ہونے کی تصدیق ہو گئی، ایمنیسٹی انٹرنیشنل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی نے غزہ میں خالص شہری اہداف پر اسرائیلی بمباری میں امریکہ ساختہ بموں کے استعمال کی تصدیق کی ہے۔ ایمنیسٹی کی اس بارے میں ایک رپورٹ میں 10 اکتوبر اور 22 اکتوبر کو غزہ میں شہریوں پر بمباری کے صرف دو واقعات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

بمباری کے ان دونوں واقعات میں 43 فلسطینی ہلاک کیے گئے۔ جن میں 19 فلسطینی بچے اور 14 عورتیں شامل تھیں جبکہ 10 مرد ہلاک ہوئے تھے۔ ایمنیسٹی نے اپنی رپورٹ متعلقہ شعبے کے ماہرین کی مدد سے تیار کر کے امریکی بموں کے عام شہریوں کے خلاف استعمال کی نشاندہی کی گئی ہے۔

مگر ان واقعات کے مضمرات امریکہ یا اسرائیل کے لیے کیا ہو سکتے ہیں، بین الاقوامی قوانین کے تحت شہریوں کے خلاف ارتکاب جرم اور اعانت جرم کی سزا کیا ہو سکتی ہے۔ اس بارے میں کچھ سامنے نہیں لایا گیا ہے۔

ایمنیسٹی کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اسرائیل نے سات اکتوبر سے مسلسل غزہ میں شہری اہداف پر بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں 80 فیصد سے زائد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کر دیا، غزہ کے بڑے حصے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا، نیز اب تک 16 ہزار سے زائد افراد بشمول 70 فیصد بچوں اور عورتوں کے ہلاک کیے گئے، ہزاروں بار کی گئی ان بمباریوں میں اسرائیل نے کس کس ملک کا اسلحہ، بارود اور بم استعمال کیے رپورٹ خاموش ہے۔

رپورٹ میں البتہ یہ بتایا گیا ہے کہ دس اکتوبر کو النجار نامی ایک خاندان کے گھروں کو اسرائیلی بمباری کا دیر البلاح میں نشانہ بنایا گیا۔ اس بمباری میں 24 افراد ہلاک کیے گئے۔ جبکہ 22 اکتوبر کو اسی شہر میں اسرائیل بمباری میں ابو معلیق خاندان کے 19 افراد قتل کیے گئے۔

دوسری جانب فلسطینی خبر رساں ادارے 'وفا' کے مطابق اکتوبر ہی کے دوران اسرائیلی جنگی طیاروں نے دیر البلاح میں ایک اور بمباری کے واقعے میں 10 افراد کو ہلاک اور کم از کم 22 کو زخمی کر دیا۔ اس نوعیت کے بے شمار واقعات میں اسرائیلی بمباری سے ہلاکتیں ہوتی رہیں اور زخمی ہسپتالوں میں علاج کی سہولتیں جبراً روکے جانے کی وجہ سے دوائی، مرہم اور علاج کے بغیر ہلاک ہوتے رہے۔

تاہم ایمنیسٹی انٹر نیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے 'ان حملوں کے بارے میں یہ چیز سامنے آنا باقی ہے کہ عام شہریوں کے خلاف یہ حملے براہ راست تھے یا امتیازی حملے تھے ان کے بارے میں ایک جرم کے طور پر تحقیقات کی ضرورت ہے۔'

ایمنیسٹی کے اسلحے کا جائزہ لینے والے 'واچ ڈاگز' ماہرین نے 'سیٹلائیٹس' کی مدد سے لی گئی تصاویر اور ان جگہوں کے تصویری جائزوں سے بھی مدد لی ہے، جہاں بمباری کی گئی تھی۔

ایمنیسٹی کے مطابق دیر البلاح غزہ میں 10 اکتوبر کو بموں کا نشانہ بننے والے النجار خاندان پر 907 کلو گرام کے وزن کا بارود استعمال کیا گیا، جبکہ دوسرے واقعہ میں ابو معلیق کے خاندان پر بمباری میں کم از کم 454 کلو گرام وزن کے بم استعمال ہوئے۔

ایمنیسٹی کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق بمباری کے ان دونوں واقعات میں امریکی ساختۃ بم استعمال کیے گئے۔ بموں کے دھاتی ٹکڑوں کی تصویریں واضح طور پر 'ریوٹس' اور 'ہارنیس سسٹم ' کو ظاہر کرتی ہیں۔ اسے عام طور پر بم کے جسم کا بیرونی فریم کہا جاتا ہے۔

اس رپورٹ میں 'جے ڈی اے ایم ' کی 'ٹیل کٹ' کا بھی ذکر ہے ، یہ 'ٹیل کٹ 'کسی بم کو 'گائیڈڈ ' بم کی شکل دیتی ہے اور اسے بے سمت نہیں رہنے دیتی۔

خیال رہے اسرائیل امریکی ساختہ اسلحے کے استعمال میں ایک انتہائی نمایاں ملک ہے۔ اس کا زیادہ تر انحصار امریکی ٹیکنالوجی پر ہے۔ جیسا کہ اسرائیل کی غزہ پر بمباری میں ایف 35 امریکی ساختہ لڑاکا طیارے زیر استعمال ہیں۔ ان ایف 35 طیاروں کے لیے فاضل پرزے اسرائیل بھیجنے پر ہالینڈ میں ایک عدالت میں سماعت بھی شروع ہو رہی ہے۔

مگر ایمنیسٹی رپورٹ میں صرف دو واقعات کو ہی بنیاد بنایا گیا ہے۔ دنیا بھر کی جنگوں میں امریکی اسلحے کا استعمال غیر معمولی ہے۔ لیکن اگر ایمنیسٹی رپورٹ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے خلاف ایک گواہی کے طور پر لیا گیا تو یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہو گا۔ جو اسلحہ سازوں، اسلحہ استعمال کرنے والے ملکوں اور فوجوں کو کسی قاعدے یا انسانی بنیادوں پر بنائے گئے قوانین کے تابع کرنے کی آواز بنے گا۔

لیکن فوری سوال تو غزہ میں مسلسل استعمال ہونے والے اسلحے کے حوالے سے ہو گا کہ جانتے بوجھتے کن ملکوں نے اس سلسلے میں اسرائیل کی مدد کی، اس کے معاون بنے اور 16000 سے زائد فلسطینیوں کی غزہ میں ہلاکت میں مددگار کے طور پر بے دھڑک موجود رہے۔ اس میں سول سوسائٹی کا کردار بھی اہم ہو سکتا ہے۔ وہ کون کون سے ملک تھے اور انہوں نے انسانی پہلووں کو کیوں پیش نظر نہ رکھا؟

رپورٹ میں ایمنیسٹی کے ماہرین نے النجار خاندان پر استعمال کیے گئے امریکی بموں کے بننے کا سال 2017 اور ابو معلیق خاندان پر برسائے گئے امریکی بموں کے بنائے جانے کا سال 2018 بتایا گیا ہے۔

سیکرٹری جنرل ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ امریکی ساختہ اسلحہ بھرے پرے فلسطینی خاندانوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اسرائیل کی فوج امریکی ساختہ اسلحے کو غیر قانونی حملوں میں استعمال کر رہی ہے ۔ اس لیے جوبائیدن انتظامیہ سے فوری جاگنے کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔

سیکرٹری جنرل ایمنیسٹی 'ایگنیس کلا مرد' نے تمام حکومتوں سے بالعموم اور امریکی حکومت سے بالخصوص مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اسلحے کی ترسیل فوری طور پر روک دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں