فلسطین اسرائیل تنازع

ہم غزہ کی پٹی کے اندر کسی بھی "بفر زون" پر اعتراض کریں گے:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کے ساتھ غزہ میں فوجی کارروائیوں کے لیے اپنی ٹائم لائن پر بات چیت کی ہے۔

انہوں نے رائیٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ "ہم نے ان سے ٹائم ٹیبل کے بارے میں بات کی ہے۔ میں اسے شیئر نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اسرائیل نے پہلے ہی اپنے زمینی آپریشن کا مقام خاص طور پر بھیج دیا ہے اور میں اسے شائع نہیں کرنا چاہتا‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہم نے ان سے اس بارے میں بات کی کہ وہ مدت کے حوالے سے کیا سوچ رہے ہیں اور یہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک طویل المدتی حکمت عملی میں کس طرح فٹ بیٹھتا ہے‘‘۔

اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بدھ کے روز کہا تھا کہ امریکا کسی بھی مجوزہ بفر زون پر اعتراض کرے گا اگر وہ غزہ کی پٹی کے اندر ہے، کیونکہ یہ واشنگٹن کے نہیں چاہتا کہ غزہ کی پٹی کا موجودہ رقبہ مزید سکڑ جائے۔

رائیٹرز نے گذشتہ ہفتے اطلاع دی تھی کہ اسرائیل نے بفر زون کے حوالے سے کئی ممالک کو منصوبے بھیجے ہیں۔

ملر نے بدھ کو کہا کہ امریکا کا خیال ہے کہ ایک "عبوری دور" آئے گا جس کے دوران حماس کے خلاف جنگی کارروائیوں کے خاتمے کے بعد اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں موجود رہیں گی، لیکن انہوں نے زور دیا کہ یہ مدت مستقل نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوگا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی سے نکل جائے، جس سے سکیورٹی خلا پیدا ہو جائے جو افراتفری پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں احساس ہے کہ جنگ کے اختتام پر ایک عبوری دور کی ضرورت ہوگی لیکن انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکا اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر دوبارہ قبضے یا غزہ کے اندر بفر زون کے قیام کو قبول نہیں کرے گا۔

ملر نے انکشاف کیا کہ امریکی انتظامیہ غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے خیال پر شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "بین الاقوامی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی (غزہ کی پٹی میں) کے حوالے سے ہم خطے میں اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ اس طرح کی بات چیت کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں کسی بھی فیصلے کے بارے میں حتمی طور پر بات کرنا قبل از وقت ہے۔

ایک اور تناظر میں ملر نے کہا کہ امریکا ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کا جائزہ لے رہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں فضائی حملوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت کا سبب امریکی جنگی سازوسامان ہے۔

منگل کو جاری ہونے والی تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وسطی غزہ میں تباہ شدہ مکانات کے ملبے سے امریکی ساختہ گولہ باری کے ٹکڑے ملے ہیں، اس حملے میں 19 بچوں سمیت 43 شہری مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں