اسرائیل کو جنوبی غزہ میں مختلف طریقے سے کام کرنا چاہیے: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے زور دے کر کہا ہے کہ اسرائیل کو شمالی غزہ کے مقابلے جنوبی غزہ میں "مختلف طریقے سے کام" کرنا چاہیے۔ کیمرون نے واشنگٹن ڈی سی کے دورے کے دوران کہا کہ ان کے ملک نے 7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے شروع کیے گئے حملوں کے تناظر میں اسرائیل کے لیے حمایت کی لیکن تل ابیب پر یہ زور بھی دیا کہ وہ اپنے ردعمل میں بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے۔

ڈیوڈ کیمرون نے مزید کہا کہ ہمیں اسرائیل کی بنیادی حمایت یہ کہہ کر کرنا چاہیے کہ آپ صحیح ہیں کہ حماس کی قیادت اور اس کے مسلح ارکان سے جان چھڑانے کی کوشش کریں۔ ڈیوڈ کیمرون نے فوری جنگ بندی کے مطالبات کو مسترد کر دیا اور کہا اگر ہم حماس کو غزہ کے ایک حصے کا بھی حکمران بنا چھوڑ دیتے ہیں تو کبھی بھی دو ریاستی حل نہیں ہو گا کیونکہ آپ یہ توقع نہیں کر سکتے کہ اسرائیل ایسے لوگوں کے گروپ کے ساتھ رہے گا جو دوبارہ جنگ بندی کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم انھوں نے اپنے امریکی ہم منصب بلنکن کے بیانات کی حمایت کی ۔ بلنکن نے کہا تھا کہ اسرائیل جنوبی غزہ پر اپنے حملے کے دوران شہریوں کی بہتر حفاظت کے لیے کچھ اہم اقدامات کر رہا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے مزید کہا کہ بلنکن نے اس بارے میں نکات کا ایک سلسلہ اٹھایا کہ اسرائیل کس طرح جنوبی غزہ میں مختلف طریقے سے کام کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ان کی بات درست ہے۔ ہمیں ان نکات کو ان پر واضح کرتے رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بالآخر اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کا انحصار نہ صرف اس کی مسلح طاقت اور استحکام پر ہے بلکہ فلسطینیوں کو امن اور سلامتی کے ساتھ رہنے کے قابل بنانے پر بھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں