حزب اللہ بیروت اور جنوبی لبنان کو غزہ اور خان یونس میں بدلنا چاہ رہی: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس کے سات اکتوبر کو اسرائیلی بستیوں پر حملے کے اگلے روز سے ہی اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان لبنان کی جنوبی سرحد پر کشیدگی جاری ہے۔ اب اسرائیل نے بیروت کو غزہ میں تبدیل کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے شمالی اسرائیل کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے علاقے کا دورہ کیا اور کہا اگر حزب اللہ ایک ہمہ گیر جنگ شروع کرتی ہے تو وہ بیروت اور جنوبی لبنان کو غزہ اور خان یونس میں تبدیل کر دے گی۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی فوج اور لبنانی حزب اللہ گروپ کے درمیان جمعرات کو بھی فائرنگ کا تبادلہ کیا گیا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان سے اسرائیل کی طرف داغے گئے متعدد میزائلوں کی نگرانی کی اور آگ کے ذرائع کا جواب دیا۔ فوج اور ایمبولینس سروس کے اعلان کے مطابق جمعرات کو لبنان سے شمالی اسرائیل کی طرف فائر کیے گئے ٹینک شکن میزائل سے ایک اسرائیلی شہری ہلاک ہو گیا۔

فوج نے ایک بیان میں کہا کہ حزب اللہ نے لبنانی سرزمین کے قریب ایک آبادی کے مرکز کی طرف ٹینک شکن میزائل داغا جس سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔ ایمبولینس سروس نے بتایا کہ بم دھماکے کے نتیجے میں ایک ساٹھ سالہ شخص ہلاک ہوگیا ہے۔ دوسری جانب لبنانی حزب اللہ نے آج کہا کہ اس کے دو ارکان اسرائیل کے ساتھ جھڑپوں کے دوران مارے گئے۔

اسرائیلی دھمکی

اسرائیلی حکام نے بار بار دھمکی دی کہ اگر حزب اللہ ملیشیا نے اسرائیل پر بمباری جاری رکھی تو وہ بیروت کو دوسرے غزہ میں تبدیل کر دیں گے۔ اسرائیلی حکام نے لبنانی حکومت کو سرحدوں کو کنٹرول کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

گزشتہ ماہ اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلانٹ نے لبنان کے ساتھ سرحد کے دورے کے دوران حزب اللہ کو "سنگین غلطی" کے ارتکاب کے خلاف خبردار کیااور زور دیا کہ "حزب اللہ لبنان کو ایک ایسی جنگ کی طرف گھسیٹ رہی ہے جس کی قیمت لبنانی شہری ادا کریں گے۔

گیلانٹ نے اپنی دھمکیوں میں یہ بھی کہا کہ بیروت کے باشندوں کا انجام غزہ کے باشندوں کی طرح کا ہوسکتا ہے۔ حزب اللہ کی جارحیت اب محض اشتعال انگیزی نہیں ہے۔

یاد رہے اکتوبر کی سات تاریخ کو غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایک طرف اسرائیلی فوج اور دوسری طرف لبنان میں حزب اللہ اور مسلح فلسطینی دھڑوں کے درمیان سرحد کے اس پار باہمی بمباری تقریباً روزانہ کا معمول بن گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں