فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں جنگ بندی پر زور دینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس جمعہ کو غزہ میں سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے شدید دباؤ کے تحت ہوگا اور ارکان ہفتوں کی تباہ کن جنگ کے بعد فوری جنگ بندی پر زور دینے کے لیے ووٹ دیں گے۔

اگرچہ فلسطینی سرزمین پر شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسرائیل کی بمباری کے دوران حالاتِ زندگی کو تباہ کن قرار دیا گیا ہے لیکن سیشن کا نتیجہ ہوا میں معلق ہے۔

بدھ کے روز کونسل کو لکھے گئے خط میں گوٹیریس نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 99 کو استعمال کرنے کا غیر معمولی قدم اٹھایا جس میں کہا گیا ہے کہ "کوئی بھی ایسا معاملہ جس سے سکریٹری جنرل کی رائے میں بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔" تو وہ کونسل کی توجہ اس معاملے کی طرف دلا سکتا ہے۔

کسی بھی سکریٹری جنرل نے اپنے کام کے دوران عشروں میں ایسا نہیں کیا تھا۔

گوٹیرس نے لکھا: "اسرائیل کی دفاعی افواج کی طرف سے مسلسل بمباری کے درمیان اور پناہ گاہ یا زندہ رہنے کے لیے ضروری سامان کے بغیر میں توقع کرتا ہوں کہ مایوس کن حالات کی وجہ سے امنِ عامہ جلد ہی مکمل طور پر جواب دے جائے گا حتیٰ کہ محدود انسانی امداد پہنچانا بھی ناممکن ہے۔"

پورے شرقِ اوسط اور "فلسطینیوں کے لیے ممکنہ طور پر ناقابلِ واپسی مضمرات کی حامل تباہی" کو روکنے کے لیے انہوں نے "انسانی بنیادوں پر جنگ بندی" کا مطالبہ کیا۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے امید ظاہر کی کہ کونسل گوٹیرس کی فوری ضروری اپیل پر غور کرے گی۔

ڈوجارک نے کہا کہ بدھ کے بعد سے اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن اور برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ کیمرون اور کئی دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات کی ہے۔

7 اکتوبر کے حملے میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے غزہ کی سرحد سے اسرائیل میں دراندازی کی جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہو گئے اور کئی ایک کو یرغمال بنا لیا گیا جن میں سے اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 138 تاحال اسیر ہیں۔ تب سے اسرائیل حماس کی تباہی کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان اب تک کی خونریز ترین جنگ اب تیسرے مہینے میں ہے جس میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 17,000 سے بڑھ گئی ہے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

اسرائیل کی مسلسل بمباری اور گولہ باری نے غزہ کا بیشتر حصہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔

اسرائیل خوراک، پانی، ایندھن اور ادویات کے داخلے پر سخت پابندیاں لگا رہا ہے اور 1.8 ملین افراد (غزہ کی 80 فیصد آبادی) اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ایکواڈور کا وفد جو اس ماہ کونسل کی صدارت کر رہا ہے اور اس طرح نظام الاوقات کے معاملات پر فیصلہ کرے گا، نے کہا کہ گوٹیرس کے فوری خط بھیجنے کے بعد متحدہ عرب امارات نے ایک مسودہ قرارداد تیار کیا جسے جمعہ کو ووٹ کے لیے پیش کیا جانا ہے۔

جمعرات کو اے ایف پی کے ملاحظہ کردہ اس دستاویز کے تازہ ترین ورژن میں غزہ میں انسانی صورتِ حال کو "تباہ کن" قرار دیا گیا اور "فوری انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔"

مختصر متن میں شہریوں کے تحفظ، بدستور حماس کے زیرِ حراست تمام مغویوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی اور غزہ کی پٹی تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

لیکن ووٹنگ کا نتیجہ واضح نہیں ہے -- جنگ شروع ہونے کے بعد پیش کردہ چار پہلے مسودات سلامتی کونسل نے مسترد کر دیئے تھے۔

آخرِکار کونسل نومبر کے وسط میں جنگ پر بات کرنے میں کامیاب ہوئی کیونکہ اس نے غزہ میں "انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تؤقف اور راہداری" دینے کا مطالبہ کرنے والی ایک قرارداد کی منظوری دی تھی -- نہ کہ جنگ بندی۔

اسرائیل کے طاقتور اتحادی امریکہ جس نے قرارداد کے پہلے مسودات میں سے ایک کو ویٹو اور جنگ بندی کے خیال کو مسترد کر دیا تھا، نے کہا ہے کہ اس مرحلے پر کونسل کی طرف سے نئی قرارداد "مفید" نہیں ہو گی۔

نائب امریکی سفیر رابرٹ ووڈ نے کہا، "ہماری پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔"

ووڈ نے کہا، "ہم پھر سوچتے ہیں کہ زمینی صورتِ حال کے لیے ہم سب جو بہترین کام کر سکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ پسِ پردہ سفارت کاری کو جاری رکھا جائے۔"

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکرٹری جنرل اگنیس کالمارڈ نے کہا، " بین الاقوامی قانون کے تحت امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر تمام اراکین کی مظالم کو روکنے کی واضح ذمہ داری ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "وسیع پیمانے پر شہری خونریزی، انسانی نظام کے مکمل خاتمے اور امنِ عامہ کی خرابی اور بڑے پیمانے پر نقلِ مکانی کے نتیجے میں ہونے والی بدترین ہولناکیوں کو روکنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بامعنی کارروائی کو روکنے کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔"

اقوامِ متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے کہا، "ہمیں پوری امید ہے کہ سلامتی کونسل اس قرارداد کو منظور کرے گی اور سیکرٹری جنرل کے بہادر، دلیرانہ اور اصولی مؤقف کو سنے گی۔"

گوٹیریس کے آرٹیکل 99 کو نافذ کرنے کے بعد اسرائیلی وزیرِ خارجہ ایلی کوہن نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ان کا دور "عالمی امن کے لیے خطرہ" تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں