امریکہ غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد ویٹو کر کے دنیا میں تنہا رہ گیا: ترکیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ کی وزارت خارجہ غزہ میں فوری جنگ بندی کے بارے میں امریکی موقف اورجنگ بندی سے متعلق سلامتی کونسل کی قرار داد کو امریکہ کی طرف سے ویٹو کیے جانے پر مکمل مایوسی ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب امریکہ میں موجود ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیضان نے کہا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جس طرح ووٹنگ ہوئی اور امریکہ نے غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے پیش کردہ قرار داد کو ویٹو کیا ہے اس پر ہمارے دوستوں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے خود کو ایک بار پھر تنہا کر لیا ہے۔ ' وزیر خارجہ نے اس امر کا اظہار ایک انٹرویو میں کیا ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے او آئی سی اور عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ امریکہ انٹونی بلنکن کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا ہے۔ ترکیہ کی وزارت خارجہ کی طرف سے اس اجلاس کے حوالے سے ' ایکس ' پر جاری کردہ پوسٹ میں اس بارے میں مکمل مایوسی کے احساسات کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے امریکہ غزہ میں مکمل اور فوری جنگ بندی کے حوالے سے وہی موقف رکھتا ہے جو اسرائیل کا موقف ہے۔ دونوں سمجھتے ہیں کہ ہر قیمت پر اب حماس کا خاتمہ ضروری ہے ، بصورت دیگر جنگ بندی سے حماس کو فائدہ ہو جائے گا۔

اس پس منظر میں امریکہ جنگ میں چھوٹے وقفوں کی حد تک حمایت کرتا ہے جبکہ جنگ کے خاتمے یا مکمل جنگ بندی کا مخالف ہے۔

اس کے برعکس امریکہ کے زیادہ تر مغربی اتحادی، خلیجی ممالک اور کئی نیٹو ممبر ممالک امریکہ اور اسرائیل کی طرح حماس کو دہشت گرد تنظیم نہیں سمجھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں