امریکی غزہ جنگ کے ردِعمل میں انسانیت دیکھنا چاہتے ہیں: امریکی کانگریس کی مسلم امیدوار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

امریکی کانگریس کے لیے ایک مسلم امیدوار ماہنور احمد نے کہا کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے ردِعمل میں "زیادہ انسانیت" کی ضرورت ان کی انتخابی مہم کا ایک کلیدی مسئلہ ہے۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ وہ زیادہ سے زیادہ امریکیوں سے یہ سن رہی ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی چاہتے ہیں، یہ کہ اس کا ان کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ کہ معصوم لوگوں کو "بدترین انسانیت" کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، امن کے حصول اور تشدد کے خاتمے میں مدد کے لیے جو کہنے کی ضرورت ہے، وہ یہ کہنے سے نہیں ڈرتیں۔ اور الینوائے کے چھٹے کانگریشنل ڈسٹرکٹ کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات جو اگلے سال 19 مارچ کو ہونے والے ہیں، ان انتخابات میں اپنے حریف پر انہوں نے الزام لگایا کہ وہ ایسا کرنے کو تیار نہیں۔

احمد نے کہا۔ "ہم صرف منہ نہیں موڑ سکتے۔ ایسا کرنا بین الاقوامی سطح پر شرمندگی آمیز ہو گیا ہے۔ دنیا کے ہر حصے سے لوگ اسرائیل کی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ہم اس طرح آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اس وقت جمود کی حالت میں رہنا غیر پائیدار ہے۔ اس سے کوئی اچھا نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔"

"یہ وہ چیز ہے جسے ہمیں انسانوں کے طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ یہ یہودی یا مسلم یا فلسطین یا اسرائیل کے بارے میں نہیں ہے۔ اِس کا اب اُس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ معاملہ اس سے بہت آگے نکل گیا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے پرامن طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔"

"اور امریکہ کے ایک جمہوری ملک ہونے کے ناطے ہمیں اس کی ابتدا کرنی چاہیے۔ ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ ہم امن کی نمائندگی کرنے والے ہیں۔ ہم ایک حقیقی جمہوری ریاست ہیں اور ہم بچوں یا خواتین پر مسلسل بمباری میں حصہ نہیں لیں گے۔"

7 اکتوبر کو تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے خلاف تشدد کی تصاویر کو "خوفناک" قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا: "کیا یہی منصوبہ ہے کہ ان بچوں، ان خواتین پر بمباری جاری رکھی جائے؟ نصف سے زیادہ، ان میں سے دو تہائی بچے ہیں۔"

احمد نے کسی بھی ایسی تجویز کو مسترد کر دیا کہ وہ اسرائیل مخالف ہیں یا حماس کی حامی ہیں یا امن کی مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا، چھٹے کانگریشنل ڈسٹرکٹ جس کی وہ ایوانِ نمائندگان میں خدمات انجام دینے کی امید رکھتی ہیں، ملک میں عربوں اور مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد میں سے ایک ہے اور وہ مناسب نمائندگی کے مستحق ہیں۔

احمد کا خاندان اس وقت امریکہ منتقل ہو گیا تھا جب وہ 7 سال کی تھیں اور انہوں نے پرڈیو یونیورسٹی سے ہیلتھ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے والد پاکستانی ہیں اور مرحومہ والدہ عرب تھیں۔

ڈیموکریٹک پرائمری میں ان کے مخالف موجودہ شان کاسٹن نے ایوان کی قرارداد 888 کی حمایت کی جو "اسرائیل کے وجود کے حق" کی توثیق کرتی ہے اور اسرائیلی ریاست کی تنقید کو سام دشمنی کی ایک شکل قرار دیتی ہے۔ مذکورہ قرارداد میں فلسطینی، عرب یا مسلم حقوق کے حوالے سے کوئی بات شامل نہیں تھی۔ انہوں نے غزہ میں حماس کو نشانہ بنانے والی اسرائیل کی فوجی مہم میں "تؤقف" کے مطالبات کی ضرور حمایت کی جس میں فلسطینی حکام کے مطابق اب تک 16,000 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں تقریباً 6,000 خواتین اور بچے شامل ہیں۔

احمد نے کہا کہ اسرائیلی اور فلسطینی "تمام عام شہریوں" کے مصائب کو نظر انداز کرنے کا مطلب ہے کہ کاسٹن اپنے ضلع کے رہائشیوں اور "انسانیت" کے ساتھ رابطے میں نہیں ہیں۔

انہوں نے کاسٹن پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ صحت کی نگہداشت کے مہنگے اخراجات سمیت گھر کے قریب دیگر مسائل پر اپنے حلقے کے خدشات سے "بےنیاز اور بے پروا" ہیں۔

احمد نے کہا ان کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ "ہر نسل، مذہب اور فرقے کا ہر فرد" مختلف مسائل سے نمٹنے کے لیے ان کے دفتر میں آ کر زیادہ انسانیت کی ضرورت کے بارے میں بات کرنے کے لیے آزاد ہو۔

انہوں نے کہا، "میں 100 فیصد لوگوں کی بالخصوص ضلع کے لوگوں کی پیداوار ہوں جو کارپوریشنوں سے پیسے لینے کی بجائے مکمل طور پر لوگوں کے لیے وقف ہے۔ وہ لوگ جن کی مجھے بات سننی پڑتی ہے۔ (کارپوریشنز) کی بات آپ کو نہیں سننی چاہیے۔"

"جب ہم منتخب ہوتے ہیں تو ہم لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور جب آپ لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں تو یہ ہر لحاظ سے ہونی چاہیے: نسل، مذہب، فرقے یا قومیت سے قطع نظر ہر لحاظ سے۔ میں ضلع میں سب سے بات کروں گی اور سنوں گی۔"

"میں نے اس علاقے میں پرورش پائی ہے۔ میرے لیے یہ گھر ہے۔ یہ میرا ضلع ہے، یہ میرے لوگ ہیں۔ یہ میرے لیے صرف ووٹرز نہیں، یہ وہ اصل لوگ ہیں جن سے میرا گہرا تعلق ہے۔"

احمد نے کہا اگرچہ غزہ میں انسانی بحران اور وہاں شہریوں کی ہلاکت فی الحال ایک بڑی تشویش کا باعث ہے لیکن کانگریس کی ایک متوقع رکن کی حیثیت سے وہ مقامی اور بین الاقوامی مسائل بشمول جرائم، صحت کی نگہداشت، معیشت اور ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں بہت فکر مند ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، بالخصوص صحت کی نگہداشت ایک بڑا مسئلہ ہے جسے ابھی چھٹے ضلع یا ملک بھر میں مکمل طور پر حل ہونا ہے اور یہ تمام رہائشیوں بالخصوص بزرگ شہریوں کے لیے زیادہ ارزاں ہونی چاہیے کیونکہ فی الحال ادویات اور علاج کے اخراجات اکثر بہت سے امریکیوں کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "لوگ اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ بزرگ افراد دانتوں کی نگہداشت کے متحمل نہیں ہو سکتے جس پر ماہانہ ہزاروں کا خرچ آ سکتا ہے۔ ایسے بزرگ افراد ہیں جو درد کا تجربہ کرتے ہیں اور وہ اس کا انتظام نہیں کر سکتے تو وہ درد کش ادویات پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ ہمارے ضلع کے سنگین مسائل ہیں اور ان سے نمٹنے اور تبدیلی لانے کے لیے ہمیں زیادہ دلجمعی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔"

احمد نے کہا، امریکہ میں "صحت کا بحران" ہے۔ اور مزید کہا: "کانگریس کو قانون سازی کی منظوری دینی چاہیے، ایسے قوانین کو روکنا نہیں چاہیے جو صحت کی نگہداشت کے بحران کا سامنا کرنے والے شہریوں تک یہ سہولت پہنچا سکیں۔ ہمیں ایسے لوگوں کو منتخب کرنے کی ضرورت ہے جو ( صحت کی صنعت کی) کارپوریشنز یا اس جیسی کسی چیز کے پابند نہ ہوں تاکہ ہم صحت کے اس بحران کا کچھ کر سکیں۔"

انہوں نے مزید کہا، کاسٹن نے اس قانون سازی کو روکنے میں مدد کی ہے جو صحت کی ارزاں نگہداشت تک رسائی کو بڑھا سکتی ہے۔

بزرگوں کو سماجی تحفظ (سوشل سکیورٹی) کی ادائیگیوں کے "دوہرے ٹیکس" کو روکنے کے لیے بنائے گئے قانون میں تبدیلیوں کی بھی احمد حمایت کرتی ہیں جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کاسٹن نے اس قانون کی حمایت نہیں کی۔

انہوں نے کہا، بوڑھے لوگ کانگریس کی طرف سے اپنے خدشات کو مکمل طور پر دور کرنے میں ناکامی پر "مایوس" ہیں اور انہوں نے مزید کہا: "ہمیں اپنے بزرگ شہریوں کی قدر کرنا ہوگی۔ وہ ہمارے والدین ہیں۔ ہمیں انہیں محفوظ رکھنا ہے۔ وہ ایک کمزور کمیونٹی ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں