انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکی پابندیوں کی زد میں کئی ملکوں کے لوگ آ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے ایک مرتبہ پھر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر متعلقہ افراد کے خلاف پابندیاں لگانے کا انتہائی اقدام کیا ہے۔

جمعہ کے روز یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب عالمی سطح پر انسانی حقوق کا دن منانے میں صرف دو دن باقی ہیں اور اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 17000 سے بھی زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، ان ہلاک شدگان میں ستر فیصد عورتیں اور معصوم فلسطینی بچے ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی بمباری کا اب تیسرا ماہ شروع ہو چکا ہے۔

یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے کہ اسرائیل اور حماس جنگ کے حوالے سے جو بائیڈن انتظامیہ اپنی بے پناہ مصروفیات اور سرگرمیوں کے باوجود کئی ملکوں میں انسانی حقوق سے متعلق امور کے ساتھ کھڑی نظر آئی ہے۔

امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں افغانستان، روس، چین، ایران اور انڈونیشیا کی مختلف شخصیات شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے پر تازہ امریکی پابندیوں کا نشانہ بننے والوں میں نو ملکوں کے 20 افراد شامل ہیں۔

اس دوران امریکی دفتر خارجہ نے روس،انڈونیشیا اور چین کے حوالے سے ویزا پابندی کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ دو ملکوں کے حوالے سے پابندیاں انسداد دہشت گردی حکام کے حوالے سے سامنے آئے ہیں۔ چین کے سرکاری عہدے داروں پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ پابندی لگائی ہے۔

ایرانی انٹیلی جنس کے دو افراد پر بھی پابندیاں لگائی ہیں۔ جن کے بارے میں واشنگٹن کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکہ میں اپنے آپریشنز کے لیے بندوں کی بھرتیاں کیں۔ ان بھرتیوں کا مقصد امریکی انتظامیہ کے موجودہ اور بعض سابق حکام کو 2020 میں قاسم سلیمانی کے قتل کے سلسلے میں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا تھا۔

امریکی وزیر خزانہ جینیٹ ییلن نے اس سلسلے میں اپنے بیان میں کہا ' انسانی حقوق کے تحفط کے لیے ہمارا عزم پاکیزہ ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں