سوڈان کے متبادل دارالحکومت پر مکھیوں کی یلغار کی کیا کہانی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

خانہ جنگی کا شکار سوڈان گذشتہ کئی ماہ سے ایک نئی مصیبت کا شکار ہے۔ ملک کے مختلف شہروں بالخصوص پورٹ سوڈان میں بڑی تعداد میں مکھیوں نے نظام زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔

پورٹ سوڈان کا شہر سوڈان کا "متبادل دارالحکومت" تصور کیا جاتا ہے۔ مگر یہ شہر مکھیوں کی کالونی میں تبدیل ہو گیا، کیونکہ ساحلی شہر مکھیوں اور مچھروں کےغیر مسبوق حملے کا شکار ہے جس نے زندگی کو ناقابل برداشت بنا دیا تھا۔

مشرقی سوڈان کے ساحلی شہر کو اب وبائی امراض اور مہلک، انتہائی متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات کا سامنا ہے۔

پچھلے کچھ دنوں سے سوڈانی وہاں افراتفری اور مکھیوں کے پھیلاؤ کے سرد مناظر شیئر کرنے میں مصروف ہیں۔

ویڈیوز مناظر

تصویروں اور ویڈیو کلپس میں مکھیوں کے غول میں ڈھکی ہوئی روٹی اور چائے فروخت کرنے والی دکانوں کو بھی دستاویز کیا گیا ہے۔

جب کہ ویڈیوز میں لوگوں کو بار بار مکھیوں کو پیچھے ہٹاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہاں تک کہ شہر میں بیٹھ کرکھانا پینا ایک انتہائی مشکل یا تقریباً ناممکن کام بن گیا ہے۔

پانی کا بحران اور ہجوم

پورٹ سوڈان تاریخی طور پر پینے کے پانی کی دستیابی میں ایک نئے بحران سے دوچار ہے۔

یہ بھی سوڈانی شہروں کی اکثریت کی طرح خستہ حال اور انتہائی خراب صحت اور ماحولیاتی بنیادی ڈھانچے اور سیوریج کے بگڑتے ہوئے نظام کا شکار ہے۔

خرطوم میں وحشیانہ جنگ کی لعنت سے فرار ہونے والے بے گھر لوگوں کے لیے پسندیدہ مقامات بننے کے بعد یہ شہر میں صحت کے مسائل کا شکار ہے۔

زیادہ مکھیاں تنگ جگہوں اور بارش اور نمی کی شرح کے لحاظ سے موسمیاتی تبدیلی، صحت کی ضروریات پر توجہ نہ دینے اور مکھیوں اور مچھروں سے لڑنے کی مہمات نہ ہونے کے باعث بھی مصائب میں اضافہ ہوا ہے۔

ملیریا کے ایک ملین کیسز

سوڈان میں ڈاکٹروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ طبی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ہیضہ سوڈانیوں کی جانیں لینے میں گولیوں کا مقابلہ کرچکا ہے اور ہسپتالوں اور علاج کے مراکز میں ہیضے کے 5,500 سے زیادہ کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

سوڈانی ڈاکٹروں کی سنڈیکیٹ کی ابتدائی کمیٹی نے خبردار کیا کہ ملک میں جنگ شروع ہونے کے بعد سوڈان میں ملیریا کے انفیکشن کا تناسب دس لاکھ تک پہنچ گیا ہے۔

اس نے پچھلے بیان میں وضاحت کی کہ مذکورہ تعداد فوجی کارروائیوں کے دائرہ کار سے باہر کی ریاستوں میں "آئس برگ کے سرے" کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خانہ جنگی سے متاثرہ صحت کے مراکز کے لیے مکھیوں اور وباؤں سے نمٹنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے سرکاری صحت کے حکام کی ناکامی، احتیاطی تدابیر اور صحت کی تعلیم میں ناکامی، ادویات کے تقریباً فقدان، مسلح تصادم کے علاقوں میں صحت کی سہولیات کی بندش اور صحت کے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو ملک میں جاری بیماریوں کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب طبی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ سرکاری اعدادوشمار میں بہت سی وجوہات کی بنا پر تمام کیسز شامل نہیں ہیں جن میں صحت کے کمزور نظام پر عدم اعتماد کی وجہ سے مریضوں کا گھروں میں علاج کرنا بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں