نامعلوم ادارے نے بحری جہاز کو بحیرہ احمر میں راستہ بدلنے کا حکم دیا ہے: برطانوی بحریہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برٹش میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اسے یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ایک نامعلوم ادارے نے خود کو یمنی حکام کے طور پر ظاہر کرتے ہوئے ایک بحری جہاز کو جنوبی بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

برطانوی اتھارٹی نے مزید کہا کہ اس نے ارد گرد کے علاقے میں بحری جہازوں کو مشورہ دیا کہ وہ احتیاط برتیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔ واضح رہے گزشتہ اتوار کو میری ٹائم سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ بحیرہ احمر میں سفر کے دوران بھاری سامان لے جانے والے بحری جہاز پر کم از کم دو ڈرونز نے حملہ کیا تھا۔

برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی ’’ایمبرے‘‘ نے کہا کہ شمالی یمن میں حدیدہ کی بندرگاہ سے 100 کلومیٹر شمال مغرب میں ایک اور بحری کنٹینر کو ڈرون حملے سے نقصان پہنچایا گیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا کہ اتوار کو بحیرہ احمر میں ایک امریکی جنگی بحری جہاز اور کئی تجارتی بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا۔ ہم بحیرہ احمر میں امریکی جنگی بحری جہاز یو ایس ایس کارنی اور تجارتی بحری جہازوں پر حملوں سے متعلق رپورٹس سے آگاہ ہیں۔

العربیہ کو بیانات میں پینٹاگون نے وضاحت کی کہ یو ایس ایس کارنی نے حوثیوں کا ایک ڈرون تباہ کر دیا جو بحیرہ احمر میں اس کے قریب پہنچ گیا تھا۔ ہم نے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی بحری جہاز کی طرف بیلسٹک راکٹ کے داغے جانے کو بھی دیکھا۔ یہ راکٹ بحری جہاز کے قریب گرا تھا۔ حوثیوں نے جس تجارتی بحیری جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اس کا نام یونٹی ایکسپلورر تھا۔

سات اکتوبر 2023 سے غزہ میں شروع ہونے والی جنگ میں یمن کے حوثیوں نے حماس کی حمایت کی اور بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی، گزشتہ ہفتے سے قبل انہوں نے آبنائے باب المندب کو عبور کرتے ہوئے اسرائیل کے اتحادیوں کے بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں