ٹیکساس کی عدالتِ عالیہ نے خاتون کو ہنگامی اسقاطِ حمل سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ٹیکساس کی عدالتِ عظمیٰ نے جمعہ کو دیر گئے ایک حاملہ خاتون کے ہنگامی اسقاطِ حمل کو روک دیا جس کے جنین کے قابلِ عمل نہ ہونے کا تعین کیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کی جانب سے ہائی کورٹ سے درخواست کرنے کے بعد آیا کہ وہ دو بچوں کی 31 سالہ ماں کیٹ کوکس کو حمل ختم کرنے سے روکے جنہوں نے اس طریقہ کار کے لیے ڈسٹرکٹ جج کی منظوری حاصل کی تھی۔

اس سے قدامت پسند جنوبی ریاست میں اسقاطِ حمل کے حوالے سے ایک تازہ ترین پیشرفت کی نشان دہی ہوتی ہے جس میں ملک میں اسقاطِ حمل کے سب سے زیادہ پابند کرنے والے قوانین موجود ہیں۔

کوکس اور ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ایک مہلک جینیاتی حالت -- ٹرائیسومی 18 -- جس کی تشخیص ان کے نوزائیدہ بچے میں ہوئی تھی، اس کی وجہ سے ان کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہو سکتی ہے اگر انہیں اسقاطِ حمل کی اجازت نہ دی جائے۔

جمعرات کو ڈسٹرکٹ جج مایا گویرا گیمبل نے کہا کہ کوکس جو 20 ہفتوں کی حاملہ ہیں، کو ٹیکساس کے اسقاطِ حمل کے قوانین میں طبی استثنیٰ کی شق کے تحت اسقاطِ حمل کی اجازت ملنی چاہیے جو اس طریقہ کار کی اجازت دیتا ہے جب عورت کی صحت کو خطرہ ہو۔

لیکن پیکسٹن نے ریاست کی ہائی کورٹ سے زیریں عدالت کے فیصلے کو روکنے کی درخواست کی اور جمعہ کو دیر گئے سپریم کورٹ نے کوکس کے وکلاء کے جاری کردہ فیصلے کی ایک نقل کے مطابق حکم امتناعی جاری کر دیا۔

سی این این، ہیوسٹن کرانیکل اور نیویارک ٹائمز نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی اطلاع دی۔

ٹیکساس کیس ان میں سے ایک ہے جب سپریم کورٹ نے گذشتہ سال رو بمقابلہ ویڈ کو کالعدم قرار دیا تھا جس نے پانچ عشروں قبل اسقاطِ حمل کا آئینی حق دیا تھا۔

کوکس کی نمائندگی کرنے والے سنٹر فار ری پروڈکٹیو رائٹس نے کہا کہ اس کا خیال ہے کہ ٹیکساس کا یہ پہلا کیس ہے جس میں 1973 میں رو بمقابلہ ویڈ کے فیصلے کے بعد سے ایک خاتون عدالت سے ہنگامی اسقاطِ حمل کے لیے کہہ رہی تھی۔

اس کیس نے ٹیکساس میں طبی استثنیٰ کے بارے میں بحث کو تیز کر دیا ہے جو حمل کے چھ ہفتوں کے بعد اس طریقہ کار کو روکتا ہے۔

پیکسٹن نے کہا کہ کوکس کو قانونی اجازت دینے والی ڈسٹرکٹ کورٹ کی جج مایا گوریرا گیمبل نے کوکس کو مستثنیٰ قرار دے کر "اپنی صوابدید کا غلط استعمال" کیا۔

ٹیکساس ان لوگوں کو بھی سزا دیتا ہے جو اسقاطِ حمل کرنے میں تعاون کرتے ہیں۔

کوکس کا مقدمہ ان کے شوہر اور ڈاکٹر دملا کرسن کی حفاظت کےلیے ہے جنہوں نے کوکس کا معائنہ کیا اور انہیں طریقہ کار میں مدد کرنے کی پیشکش کی۔

ٹیکساس کا قانون ان صورتوں میں اسقاطِ حمل کی اجازت دیتا ہے جہاں ماں کی جان کو خطرہ ہو لیکن ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ الفاظ واضح نہیں ہیں اور انہیں سنگین قانونی نتائج کا خطرہ ہے۔

پیکسٹن نے جمعرات کو ہسپتالوں کو خطوط بھیجے جس میں انہیں خبردار کیا گیا کہ اگر وہ اسقاط حمل کراتے ہیں تو انہیں ان قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹیکساس میں غیر قانونی اسقاط حمل کرنے کے مرتکب ڈاکٹروں کو 99 سال قید، 100,000 ڈالر تک کے جرمانے اور ان کے میڈیکل لائسنس کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اٹارنی مارک ہیرون نے جمعرات کو کہا کہ پیکسٹن "قانونی نظام کو ختم کرنے" کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ کوکس اور اسی طرح کے معاملات والی خواتین کو "تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں