کیا اسرائیلی فوج غزہ میں اب تک کا شدید اور فیصلہ کن حملہ کررہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج کی جانب سے پہلے مرحلے میں اپنے زمینی حملے کو شمالی غزہ کی پٹی پر مرکوز کرنے کے بعد رواں ہفتے اس نے اپنی کارروائیوں کو جنوب تک پھیلا دیا جہاں تقریباً 20 لاکھ فلسطینی جمع ہیں۔ وہ اب ایک ایسے علاقے میں محصور ہیں جس کا علاقہ بتدریج تنگ ہوتا جا رہا ہے۔

اگرچہ جنوب میں فوجی کارروائیاں ہفتوں تک جاری رہنے کی توقع ہے کیونکہ اسرائیلی فوج اس وقت خان یونس میں فلسطینی مزاحمت کاروں سے لڑ رہی ہے۔ اسرائیلی فوجی قیادت نے اشارہ دیا ہے کہ خان یونس میں اس کی کارروائی فیصلہ کن اور شدید ترین ہوسکتی ہے۔

فیصلہ کن مرحلہ

برطانوی اخبار دی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے پردے کے پیچھے خفیہ طور پر کہا ہےکہ خان یونس شہر پر حملہ زمینی حملے کے آخری مرحلے میں سب سے بڑا اور شدید ترین ہو سکتا ہے۔

اگرچہ ان اشاروں کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ اسرائیل پھر جنگ بندی پر رضامند ہو جائے گا لیکن اس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی افواج بعد میں اپنی کارروائیاں کم کر سکتی ہیں۔

خان یونس پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں زخمی ہونے والی بچی۔
خان یونس پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں زخمی ہونے والی بچی۔

اس کے بعد اسرائیلی فوج موبائل فورسز کا استعمال کرتے ہوئے حماس کے مضبوط ٹھکانوں پر چھوٹے حملے شروع کرنے کی حکمت عملی اختیار کر سکتی ہے۔ تب وہ پوری بکتر بند ڈویژنوں کو تعینات کرنے سے گریز کرسکتی ہے۔

ایک سینیر اسرائیلی فوجی اہلکار نے توقع ظاہر کی کہ حماس کے گڑھ سمجھے جانے والے خان یونس میں فوجی آپریشن تین سے چار ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ پر شمال اور جنوب سے پرتشدد بمباری جاری ہے۔ غزہ سٹی، خان یونس، دیر البلح اور نصیرات میں جھڑپیں جاری ہیں، جن میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائیوں کے ساتھ فضائی اور سمندری بمباری شامل ہے۔

اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 17,490 ہوچکی ہے جن میں 7,870 بچے اور 6,121 خواتین شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں