مصر کے صدراتی انتخاب کے لیے پولنگ جاری ، السیسی پھر صدر بننے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ جہاں اسرائیل کی طرف سے بمباری جاری ہے اور امریکہ کے ساتھ مل کر حماس کے خاتمے کے ذریعے رجیم چینج کی کوشش ہو رہی ۔ ہے اس سے متصل رفح کے اس پار مصر میں صدارتی انتخاب کے لیے معمول ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔

صدر السیسی جنہوں نے 2014 میں صدر مرسی کو برطرف کے اقتدار پر قبضہ کیا تھا، تب سے مسلسل مصر کے صدر کے طور پر ملک کے حکمران ہیں۔ وہ اپنی اسی حکمرانی کے لیے ایک بار پھر پر امید ہیں کہ انہیں اگلے چھ سال کے لیے صدر منتخب کر لیا جائے گا۔

اگلے چھ سال کے دوران وہ ملک میں پھیلی غربت کے خاتمے اور اسرائیل حماس کی جنگ کے اثرات سے ملک کو بچانے کے لیے کوشاں رہیں گے اور حکومت کا وسیع تجربہ رکھنے والے ایک رہنما کے طور پر اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے غربت اور معاشی صورت حال سے تنگ عوام انہیں ایک مرتبہ پھر موقع دے دیں گے

مصری 10 دسمبر 2023 کو قاہرہ کے مرکز میں صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشن کے سامنے قطار میں کھڑے ہیں۔ (اے ایف پی)
مصری 10 دسمبر 2023 کو قاہرہ کے مرکز میں صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشن کے سامنے قطار میں کھڑے ہیں۔ (اے ایف پی)

مصر میں صدارتی انتخاب 2024 میں متوقع تھے تاہم بڑھی ہوئی معاشی تنگی سے عوام کوایک نئی امید دلانے کے لیے انہوں نے قبل از وقت صدارتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا۔

ان کے مقابل دو اور صدارتی امیدوار موجود ہیں لیکن کوئی بھی ایسا امیدوار میدان میں نہیں ہے جوان کو ایوان صدر میں ایک بار پھرسے براجمان ہونے سے روک سکے۔

صدارتی انتخاب کے لیے مصر میں ووٹنگ کا عمل صبح نو بجے شروع ہوا ہے، جو رات نو بجے تک جاری رہے گا۔ پولنگ شروع ہوتے ہی ووٹرز کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں پولنگ سٹیشنوں کے آس پاس نظر آنے لگیں۔

امن و امان بر قرار رکھنے کے لیے پولیس کے دستے اور بلوے روکنے والی پولیس تعینات کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں قاہرہ کے تحریر سکوائر میں بھی بھاری نفری تعینات ہے۔

ایک مصری شخص 10 دسمبر 2023 کو قاہرہ کے مرکز میں ایک پولنگ اسٹیشن پر صدارتی انتخابات کے دوران اپنا ووٹ ڈال رہا ہے۔ (اے ایف پی)
ایک مصری شخص 10 دسمبر 2023 کو قاہرہ کے مرکز میں ایک پولنگ اسٹیشن پر صدارتی انتخابات کے دوران اپنا ووٹ ڈال رہا ہے۔ (اے ایف پی)

مقابلے میں کوئی بڑا نام اور سیاست دان نہ ہونے کی وجہ سے السیسی کی جیت کا امکان غیر معمولی ہے۔ حکام کی مسلسل کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ووٹ ڈالنے نکلیں اس سلسلے میں مبصرین بھی عوام کو پولنگ سٹیشنوں کا رخ کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔

پولنگ کے نتائج کا اعلان 18 دسمبر کو کیا جائے گا۔ جس کے بعد نئی صدارتی مدت کے لیے نومنتخب صدر عہدہ سنبھال سکیں گے۔ اس سے قبل السیسی 2014 اور 2018 کے صدارتی انتخابات میں 97 فیصد ووٹوں کے ساتھ منتخب قرار دیے تھے۔ اب ووٹنگ ٹرن آؤٹ کیا رہتا ہے اسکا درست اندازہ 18 دسمبر کو ہی ہو سکے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں