فلسطین اسرائیل تنازع

یمنی حوثیوں نے اسرائیل جانے والے ہر قسم کے بحری جہازوں پر پابندی لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی طرف سے یہ اعلان ان مسلسل خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں غزہ میں انسانی بنیادوں پر سامان کی فراہمی میں بد ترین مشکلات کا کا ذکر ہوتا اور بتایا جا رہا ہے کہ غزہ میں خوراک سمیت تمام تر بنیادی اشیائے ضروری بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق امداد تقسیم کرنے کے مقامات پر چھینا جھپٹی کی صورت حال دیکھنے میں آ رہی ہے۔ جبکہ اشیاء فراہمی کو بھی محدود تر بتایا جاتا ہے۔

حوثیوں نے اس کے ردعمل میں اسرئیل کو جانے والے ہر قسم کے سامان کا راستہ بند کرنے کے لیے یہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے ' خواہ کسی بھی قوم یا ملک کا بحری جہاز ہو اب اسرائیل کے لیے امدادی سامان نہیں لے جا سکے گا۔'

تاہم حوثیوں نے اس پابندی کے نفاذ میں یہ تخصیص نہیں کی ہے کہ وہ بحری جہاز جنگی سامان لے کر اسرائیل جانے والے ہوں گے یا صرف عام ضرورت کی تجارتی اشیا لے جانے والے کمرشل جہاز ہی اس پابندی کی زد میں آئیں گے۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثی پچھلے کئی ہفتوں سے یمن سے جڑے سمندری راستوں میں اپنی موجودگی دکھا رہے ہیں اور اسرائیل کے حمایتی جہازوں پر راکٹ داغنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس تنا ظر میں امریکہ نے نمائندہ خصوصی برائے یمن خلیجی ملکوں کا ایک دورہ بھی کر چکے ہیں۔

حوثیوں کے اعلان میں کہا گیا ہے' اگر غزہ میں خوراک اور ادویات کی فراہمی نہیں کی جا سکتی اور اسرائیل اس میں رکاوٹ بنا ہوا ہے تو اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جانے والے تمام جہاز بھی اسی طرح روک دیے گئے ہیں۔ ایسے بحری جہازوں کا کسی بھی ملک سے تعلق ہوا وہ ہماری فوجی اہداف ہوں گے۔'

واضح رہے یہ پہلا موقع ہے کہ حوثیوں نے اسرائیل کی طرف جانےوالے سارے بحری راستوں کی ' بلاکیڈ ' کر دی ہے۔ اس سے قبل اس طرح کے اقدامات امریکہ اور یورپ کی طرف سے ہی دیکھنے میں آتے تھے۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی طرف سے یہ ایک غیر معمولی اعلان ہے۔ اگرچہ اس پر عمل کرانا اس قدر آسان نہ ہوگا۔ اس سے قبل حوثیوں کے بحیرہ احمر میں اہداف کے لیے سرگرمیاں انتہائی محدود تھیں۔ ان اعلانات سے علاقے میں تصادم کا دائرہ پھیلتا ہوا نظر آنے لگا ہے۔ تاہم کسی بھی دوسرے ملک کا فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے منگل کے روز انسداد دہشت گردی کے لیے حوثیوں کے خلاف بھی پابندیوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ امریکی پابندیوں کی زد میں حوثیوں کی 13 شخصیات یا ادارے آئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں