یمن اور حوثی

امریکا نے حوثیوں کےخلاف کثیرالقومی بحری فوج جمع کرنے کی کوشش شروع کردی: میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے اتوار کے روز اطلاع دی ہے کہ امریکا حوثیوں کی طرف سے بحری جہازوں کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے بحیرہ احمر میں کثیر القومی بحری فوج کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

اخبار نے ایک باخبر امریکی فوجی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "بہت سے ممالک دنیا کے اس حصے میں تجارتی جہاز رانی میں خلل کو روکنے میں دلچسپی رکھتے ہیں"۔ عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کے مطابق امریکا اس حوالے سے کئی دوسرے ممالک سے بھی بات کررہا ہے۔

اہلکار نے امریکی کوششوں کو بڑے پیمانے پر "پرعزم " قرار دیا اور کہا کہ ابھی تک اس کی کوئی واضح ٹائم لائن نہیں ہے کیونکہ اتحادی اور شراکت دار اس بات کا جائزہ لیں گےکہ وہ کس طرح حصہ لیں گے"۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیر اہلکار نے کہا کہ فورس کو بڑھانے کے بارے میں بات چیت "فعال طریقے سے ہو رہی ہے"

یمن میں حوثی گروپ نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ کسی بھی ملک کے اسرائیل جانے والے تمام بحری جہازوں کو گذرنے سے روک دیں گے۔ انہوں نے اسرائیل کے بحری جہازوں کی آمدورفت کو غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی حملوں کی روک تھام اور غزہ کو ادویات اور خوراک کی سپلائی سے مشروط کیا۔ حوثیوں کا کہنا تھا کہ اگرغزہ میں ادویات اور خوراک لے جانے کی اجازت نہ دی گئی تو اسرائیل کی طرف جانے والے تمام بحری جہاز ان کے لیے "جائز ہدف" بن جائیں گے‘‘۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن
امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے اتوار کے روز خبردار کیا کہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر میزائل حملے نہ صرف اسرائیل اور امریکا کے لیے بلکہ درجنوں ممالک کے لیے بڑا خطرہ بن گئے ہیں۔

بلینکن نے کہا کہ حوثیوں کے لیے مالی امداد کو کمزور کرنے کے لیے پابندیاں مؤثر طریقے سے لاگو کی گئی ہیں اور انھوں نے مستقبل میں فوجی کارروائی کو مسترد نہیں کیا ہے۔

7 اکتوبر کو حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کی جانب سے غزہ کی پٹی سے ملحقہ اسرائیلی قصبوں پر اچانک حملے کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر اپنی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔

حوثیوں نے تنازع میں مداخلت کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملہ کیا اور اسرائیل پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل داغے جس کا مقصد غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی حمایت ظاہر کرنا تھا،جہاں اسرائیل نے تقریباً دو ماہ کی جنگ کے دوران تقریباً 18,000 افراد کو مار ڈالا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں