فلسطین اسرائیل تنازع

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اسرائیل-حماس جنگ کے جواب میں آئندہ اقدامات پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ پیر کو شرقِ اوسط بحران کے جواب میں ممکنہ آئندہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں جس میں حماس کے مالیات کے خلاف سخت اقدامات اور مغربی کنارے میں تشدد کے ذمہ دار اسرائیلی آباد کاروں کے لیے سفری پابندیاں شامل ہیں۔

برسلز میں ہونے والی میٹنگ میں بلاک کے 27 ممالک کے وزراء یوکرینی ہم منصب دیمیٹرو کولیبا سے بھی بات کریں گے کیونکہ وہ کایئو کو مستقبل میں سکیورٹی امداد پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

جبکہ روس کے حملے کو پسپا کرنے میں یوکرین کی مدد کرنے پر یورپی یونین کے حکام کا اصرار اولین ترجیح ہے، ایسے حالات میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز نے بلاک کو شرقِ اوسط پر نئی توجہ مرکوز کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

جنگ نے یورپی یونین کے ممالک کے درمیان اسرائیل-فلسطینی تنازعہ پر طویل عرصے سے جاری وسیع تر اور گہری تقسیم کو بے نقاب کر دیا ہے۔

لیکن وزراء مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ سفارتی سروس کا ایک مقالہ ان کے زیرِ غور ہو گا جو آئندہ کے ممکنہ اقدامات کے ایک وسیع سلسلے کا خاکہ پیش کرتا ہے۔

حماس کو یورپی یونین نے پہلے ہی ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر درج کر رکھا ہے یعنی یورپی یونین میں موجود اس کے فنڈز یا اثاثے منجمد کر دیے جائیں۔

یورپی یونین نے جمعے کو کہا کہ اس نے حماس کے عسکری ونگ کے کمانڈر جنرل محمد ضیف اور ان کے نائب مروان عیسیٰ کو حکم کے تحت دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

رائٹرز کا ملاحظہ کردہ مقالہ تجویز کرتا ہے کہ یورپی یونین حماس کے مالیات اور غلط معلومات کو نشانہ بنا کر مزید آگے بڑھ سکتی ہے۔

یورپی یونین کے ممالک بشمول فرانس اور جرمنی نے کہا ہے کہ وہ پہلے ہی ایسی تجاویز کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

یورپی یونین کے سینئر حکام جیسے کہ خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مقالے سے پتہ چلتا ہے کہ یورپی یونین کے ردِعمل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر ذمہ داروں کے لیے یورپی یونین کے سفر پر پابندی اور دیگر پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں۔

فرانس نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ یورپی یونین کو ایسے اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ اور بیلجیئم کے وزیرِ اعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ "مغربی کنارے میں انتہا پسند آباد کاروں" کے ملک میں داخلے پر پابندی ہوگی۔

سفارت کاروں نے کہا تھا یورپی یونین کی وسیع پابندیوں کے لیے ضروری اتفاق رائے حاصل کرنا مشکل ہو گا کیونکہ آسٹریا، جمہوریہ چیک اور ہنگری جیسے ممالک اسرائیل کے کٹر اتحادی ہیں۔

لیکن کچھ ارکان کا خیال ہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیل کے سب سے بڑے حمایتی ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے مغربی کنارے میں تشدد میں ملوث افراد پر ویزا پابندیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا جس سے یورپی یونین کے ممالک کو بھی ایسے ہی اقدامات کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں