ایران کے ساتھ بڑے نئے معاہدے پر کام ہو رہا ہے: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی وزارتِ خارجہ نے منگل کو کہا کہ روس اور ایران ایک "بڑے نئے بین الریاستی معاہدے" پر کام کو تیز کریں گے۔

معاہدے کے دائرہ کار کی تفصیل نہیں بتائی گئی جو ماسکو اور تہران کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی، تجارتی اور فوجی تعلقات کے درمیان سامنے آیا ہے جسے امریکہ تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

ایک بیان میں روس نے کہا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے پیر کو ایک فون کال میں معاہدے پر کام کی رفتار تیز کرنے پر اتفاق کیا جو "تیاری کے اعلیٰ مرحلے" پر تھا۔

گذشتہ ہفتے صدر ولادیمیر پوتن نے کریملن میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ پانچ گھنٹے تک بات چیت کی۔

شمالی کوریا کی طرح جس کے رہنما کم جونگ اُن نے ستمبر میں روس کے مشرق بعید میں پوتن سے ملاقات کی تھی، ایران امریکہ کا صریح دشمن ہے اور ماسکو کو یوکرین میں اپنی جنگ کے لیے فوجی ہارڈ ویئر فراہم کر سکتا ہے جہاں روس نے ایرانی ڈرونز کا وسیع استعمال کیا ہے۔

کریملن نے گذشتہ ماہ کہا تھا روس اور ایران اپنے تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں جس میں "فوجی-تکنیکی تعاون کے شعبے بھی شامل" ہیں لیکن وائٹ ہاؤس کی اس تجویز پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ شاید ایران روس کو بیلسٹک میزائل فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

ایران اسرائیل کی دشمن حماس کا سب سے بڑا حمایتی ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز پوتن کے ساتھ فون پر بات کی اور ایران کے ساتھ روس کے "خطرناک" تعاون پر "سخت ناپسندیدگی" کا اظہار کیا۔

ایرانی حکام نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ فوجی تعاون روز بروز بڑھ رہا ہے۔ ایران نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ اس نے روس کو ایس یو-35 لڑاکا طیارے، ایم آئی-28 حملہ آور ہیلی کاپٹر اور یاک 130 پائلٹ تربیتی طیارے فراہم کرنے کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں