امریکہ اور برطانیہ نے حماس کی فنڈنگ روکنے کے لیے مزید پابندیاں لگا دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے حماس کے لیے ایک بار اظہار مذمت کیا گیا ہے اور اس فلسطینی مزاحمتی تحریک کے لیے نئی پابندیوں کا نفاذ کر دیا ہے۔ نئی پابندیوں کا جواز اسرائیل پر سات اکتوبر کو کیے گئے حملوں کو بنایا گیا، ان پابندیوں کا اعلان بدھ کے روز کیا گیا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق ان پابندیوں کا اطلاق ان حماس رہنماؤں کے خلاف ہو گا جو بیرون ملک حماس کے مفادات کے تحفظ کے لیے سر گرم رہتے ہیں اور حماس کے ایجنڈے کو بڑھاتے ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ کے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے انڈرسیکرٹری بریاب نیلسن نے کہا ' حماس نے اعلیٰ سطح پر موجود تعلقات اور نیٹ ورک کو حماس کے لیے فنڈریزنگ کرتے ہیں۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے ' یہ پابندیاں حماس کے ایک درجن بھر رہنماؤں اور سہولت کاروں پر لگائی گئی ہیں۔ ان میں غزہ کے رہائشی اسماعیل برہوم ، ان کے بارے میں امریکی وزارت کا کہنا ہے کہ یہ غزہ میں حماس کے ریجنل فنانس ایگزیکٹو ہیں۔

برطانوی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے 'دوسرے رہنما غزہ کے شریک بانی محمد ظاہرہیں جن پر یہ پابندیاں لگی ہیں، لبنان میں مقیم حماس رہنما علی برکہ بھی ان پابندیوں کی زد میں آئیں گے، انہوں نے حماس کے سات اکتوبر کے حملوں کا دفاع کیا تھا۔ '

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا ' غزہ میں حماس کا کوئی مستقبل نہیں ہے، تازہ لگائی گئی پابندیوں کی زد میں حماس اور اسلامی جہاد کے لیے فنڈنگ پر کٹ لگے گا اور وہ مزید تنہائی میں جانے پر مجبور ہوں گی۔ '

ڈیوڈ کیمرون نے مزید کہا ' ہم اپنے پارٹنرز کے ساتھ مل کر پائیدار سیاسی حل کے لیے کام کرتے رہیں گے تاکہ اسرائیلی اور فلسطینی امن کے ساتھ رہ سکیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں