برطانیہ نے ایرانی فیصلہ سازوں پر نئی پابندیاں لگا دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

برطانیہ نے ایرانی فیصلہ سازی میں شامل اعلیٰ حکام پر پابندیوں کی ایک نئی سیریز شروع کر دی ہے۔ برطانوی پابندیوں کی زد میں ایران کے علاوہ اس کی حمایت یافتہ اور اتحادی شخصیات اور تنظیموں کو بھی لیا جائے گا۔

نئی برطانوی پابندیوں کا نفاذ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے علاوہ دوسرے فلسطینی مزاحمت کاروں پر بھی یہ پابندی لگائی جائیں گی۔

پابندیوں کی تازہ قسط میں ایرانی فیصلہ ساز شخصیات کے سفر کرنے ، ان کے بنک اکاؤنٹس کے منجمد کیے جانے جیسی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اس سلسلے برطانیہ امریکہ کے ساتھ مل کر مربوط کوششیں کرے گا۔ تاکہ ایران کی برطانیہ اور پوری دنیا میں مخالفانہ سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کی جا سکے۔

برطانوی پابندیوں کا اطلاق قدس فورس کے لیڈر، پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرمیوں سے متعلق امور کے علاوہ ایران کی شخصیات پر پابندیاں لگائی گئی ہیں جو حماس اور اسلامی جہاد وغیرہ سے رابطے میں رہتے ہیں ہے۔ یاد رہے برطانیہ نے فلسطینی گروپوں پر پہلے سے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

ان نئی پابندیوں کی وجہ سے ایران کے ڈرون طیاروں اور ان کے آلات بھی پابندیوں زد میں آئیں گے۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے ایران کو ناقابل قبول دشمن قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں