ترکیہ کے رکن پارلیمان کو ایوان کے اندر ہی 'ہارٹ اٹیک'، دو روز بعد انتقال کر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکیہ کی اپوزیشن جماعت سے تعلق رکھنے والے 54 سالہ رکن پارلیمنٹ حسن بتماز صدر طیب ایردوآن کی اسرائیل کے بارے میں کمزور پالیسی پر تنقید کرتے دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے۔

وہ دو روز قبل غزہ میں اسرائیلی مسلسل بمباری کے باوجود اسرائیل کے ساتھ ترکیہ کی تجارت جاری رکھے جانے پر سخت تنقید کرتے کرتے دل کے دورے کا شکار ہو نے پر ہسپتال لے جائے گئے تھے ، جہاں جمعرات کے روز ان کا انتقال ہو گیا ہے۔

حسن بتماز کا تعلق سعادت پارٹی سے تھا۔ ان کے پسماندگان میں ایک بچہ اور ان کی بیوہ شامل ہیں۔ وہ قاہرہ کی الازہر یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد سنٹر فار اسلامک یونین ریسرچ کے سربراہ بھی رہے۔ ماضی میں وہ ایک اسلامی 'این اجی او' سے بھی وابستہ رہ چکے تھے۔

منگل کے روز پارلیمنٹ میں اپنا خطاب انہوں نے جیسے ہی مکمل کیا انہیں کھڑے کھڑے ہی دل کا دورہ پڑا ۔ وہ اپنے ڈائس کے سامنے ہی کھڑے تھے کہ عارضہ قلب شروع ہوا اور انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

وہ منگل سے جمعرات تک ہسپتال میں داخل رہے اور جمعرات کے روز خالق حقیقی سے جا ملے۔ پارلیمنٹ سے اپنے آخری خطاب میں اسرائیل کے ساتھ ترکیہ کی تجارت جاری رکھنے کی پالیسی پر سخت تنقید کی۔ پارلیمان سے اپنے آخری خطاب میں انہوں نے ترکیہ کے اسرائیل جانے والے تجارتی جہاز کی تصویر اٹھا رکھی تھی اور حکومت پر سخت تنقید کر رہے تھے۔

وہ صدر طیب ایردوآن سے مخاطب تھے اور کہہ رہے تھے' آپ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے باوجود اپنے جہازوں کو جانے دیتے ہو اور بے شرمی سے اسے تجارت کہتے ہو، آپ تو اسرائیل کے معاون ہو، اس موقع پر انہوں نے ڈائس پر فلسطین کے حق میں ایک پوسٹر بھی رکھا ہوا تھا ، جس پر تحریر تھا 'قاتل اسرائیل کی شراکت دار 'آق۔'

مقبول خبریں اہم خبریں