سال نو کے آغاز پر واشنگٹن کو غزہ میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی میں تبدیلی کی توقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں جنگ کے انتظام پر اسرائیل اور امریکہ کے درمیان واضح طور پر اختلافات سامنے آچکے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے تل ابیب کی مضبوط اور مسلسل حمایت کے باوجود متعدد باخبر عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ امریکی انتظامیہ جلد ہی غزہ میں آپریشن کے حوالے سے اسرائیلی فوج کی حکمت عملی میں تبدیلی کی توقع کر رہی ہے۔

امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن کو توقع ہے کہ جنوبی غزہ میں جنگی آپریشن کی شدت کو کم کر دیا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ ہوگا کہ جنوری 2024 کے اوائل میں زیادہ درست اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق حکام نے وضاحت کی کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ غزہ میں غالبا جنوری کے دوران فوجی حکمت عملی میں تبدیلی کی توقع کر رہی ہے تاکہ اسرائیل کے وسیع حملے مخصوص حملوں میں تبدیل ہو جائیں جو حماس کے سینئر رہنماؤں یا اہم اہداف کو نشانہ بنائیں۔ اس حوالے سے ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کا کہ جنوبی غزہ میں زمین پر کم فوجیوں کے ساتھ مختلف نقطہ نظر اپنایا جائے گا۔

حکام کے مطابق اسرائیل کے اب بھی کئی فوجی مقاصد ایسے ہیں جو اس نے جنوبی غزہ میں حاصل نہیں کیے ہیں۔ اسرائیل خان یونس اور دیگر علاقوں کے ارد گرد اپنی دراندازی اور جاری حملے کا جواز پیش کرنے کے لیے ان مقاصد پر انحصار کرتا ہے۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ حماس کے سینئر رہنما ان علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں۔

اسرائیل کی حکمت عملی میں تبدیلی کے بارے میں یہ پیش گوئی اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کل جمعرات اور جمعہ کو دوبارہ تل ابیب کا دورہ کریں گے۔ اس دورہ کے دوران جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ انتظامی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

توقع ہے کہ جیک سلیوان اسرائیلی حکومت پر زور دیں گے کہ وہ اپنی فوجی کارروائیوں میں زیادہ دستی پیدا کرے اور غزہ میں مزید انسانی امداد کی فراہمی اجازت دے۔

باخبر ذرائع نے گذشتہ ہفتے اطلاع دی تھی کہ امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے اسرائیلی حکومت کے عہدیداروں کو بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ کا خیال ہے کہ تنازع مہینوں میں نہیں بلکہ ہفتوں میں ختم ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ جتنی لمبی ہوگی یہ سب کے لیے اتنا ہی مشکل ہو جائے گی۔

دوسری طرف اسرائیل اب بھی اپنے عہدیداروں کے عوامی بیانات کے ذریعے حماس کو ختم کرنے اور شمالی حصوں کے بعد جنوبی غزہ کی پٹی کو صاف کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔ اسرائیل نے ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ وہ ان تمام سرنگوں کو اڑا دے گا جہاں اس کا خیال ہے کہ حماس کے رہنما اپنے ہتھیاروں اور آلات کو چھپا کر محفوظ کر رہے ہیں۔

تاہم بائیڈن نے گزشتہ روز پہلی مرتبہ اسرائیلی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ شہریوں کی ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے درمیان جنگ جاری رہنے کی وجہ سے اسرائیل کے لیے عالمی حمایت میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں