غزہ کے بچوں کے کرسمس سے متعلق سوال پر برطانوی وزیر اعظم شرمسار

رشی سوناک جنگ بندی کی مخالفت کے اپنے فیصلے پر قائم مگر غزہ میں جانوں کےضیاع پرخاموش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سکاٹش نیشنل پارٹی کے رہنما اسٹیفن فلن نے برطانوی ہاؤس آف کامنز میں ایک اجلاس کے دوران برطانوی وزیراعظم رشی سوناک کو ٹیلی ویژن کے سامنے ایک سوال سے شرمندہ کردیا۔

فلن نے استفسار کیا کہ "کیا وزیر اعظم اس موسم سرما میں غزہ میں بمباری کا نشانہ بننے والے بچوں کو کرسمس کا پیغام دے سکتے ہیں؟"۔

فلن نے مزید کہا کہ اگر اسرائیلی حملے جاری رہے تو اندازہ ہے کہ 25 دسمبر کرسمس کے دن تک تقریباً 1400 مزید بچے مارے جائیں گے۔

اس کے بعد انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے "شرمناک طور پر" اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنگ بندی کی تحریک پر ووٹنگ سے پرہیز کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "وزیراعظم کیسے وضاحت کر سکتے ہیں کہ 153 ممالک نے جنگ بندی کے حق میں ووٹ کیوں دیا، جب کہ برطانیہ نے جنگ بندی کی قرارداد میں ووٹ سے گریزکیوں کیا؟"

سوناک نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کو غزہ میں لڑائی کے شہری آبادی پر پڑنے والے "تباہ کن اثرات" پر گہری تشویش ہے۔

سوناک نے کہا کہ "بہت سے لوگ پہلے ہی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور یہ وہ چیز ہے جس پر ہم نے زور دیا۔ میں نے ذاتی طور پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ غزہ میں بہت جانی نقصان ہوچکا ہے‘‘۔

سوناک نے ایک بار پھر جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "کوئی بھی اس تنازعہ کو ضرورت سے ایک لمحہ زیادہ دیر تک جاری نہیں دیکھنا چاہتا۔ ہم ایک پائیدار جنگ بندی کی حمایت میں ثابت قدم رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ حماس کو اسرائیل پر راکٹ داغنا بند اور یرغمالیوں کو فوری رہا کرنا چاہیے‘‘۔

غزہ پر اسرائیلی بمباری ،زمینی کارروائیوں کے ساتھ پٹی کے ایک بڑے حصے کی تباہی، انسانی حالات کے بگاڑ، 18,500 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت اور 15 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی نقل مکانی اور بے گھر ہونے کا باعث بنی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں