فلسطین اسرائیل تنازع

مغربی کنارے کے انتہا پسند آباد کاروں پر پابندیاں لگائی جائیں: یورپی یونین سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین نے مغربی کنارے انتہا پسند یہودی آباد کاروں کے خلاف پابندیاں لگانے کی سفارش کی ہے جو فلسطینیوں پر تشدد آمیز حملے کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ ان کی وجہ ایک طرف فلسطینی مصائب کا شکار ہیں اور دوسری جانب یہ آباد کار پائیدار امن کے لیے خطرہ بڑھا رہے ہیں اور خطے استحکام کی امید مزید کم کر رہے ہیں۔

یورپی یونین کی صدر نے کہا اس لیے میں ایسے لوگوں کے خلاف پابندیاں لگانے کی حمایت کرتی ہوں جو مغربی کنارے میں فلسطینیوں پرحملوں میں ملوث ہیں۔ یہ واضح رہنا چاہیے کہ تشدد کر کے حماس کے خلاف جنگ نہیں ہو سکتی ، یہودی آباد کاروں کی ان کارروائیوں کو لازماً روکا جانا چاہیے۔

وان ڈیر لیین کا یہ موقف اس وقت سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے پیر کے روز کہا تھا کہ مغبی کنارے کے یہودی آباد کاروں پر پابندیاں لگانے کے لیے معاملہ آگے بڑھانا چاہیے۔

اس طرح کی پابندیوں کے لے 27 رکنی یورپی یونین میں مکمل اتفاق کی ضرورت ہے مگر اس میں اس موضوع پر دھڑے بندی ہے۔

دریں اثناء سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز ان یورپی رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو حماس کے خلاف اسرائیل کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کہتے ہیں اور غزہ میں فوری جنگ بندی کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ غزہ پر جس طرح اسرائیلی بمباری جاری ہے اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں کی جارہی ہیں۔ اس پر ہمیں کہنا چاہیے کہ بہت ہوگئی اب اسے رکنا چاہیے۔

سپین آجکل یورپی یونین کے صدارتی منصب پر فائز ہے نے اپنے اس موقف سے یورپی یونین کو بھی آگاہ کیا ہے کہ ' غزہ پر بمباری اب لازماً اور فوری بند ہونی چاہیے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں