مغربی کنارے کے متشدد یہودی آباد کاروں کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے جو یہودی آباد کار فلسطینیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہوں گے ان کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی ہو گی۔ برطانیہ کے علاوہ یورپی یونین بھی اسی طرح کے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ نے حالیہ دنوں ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آباد کاروں کی کارروائیوں میں سات اکتوبر سے بھی زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔

واضح رہے یہودیوں میں یہ رجحان اسرائیل اور مغربی کنارے میں ہی نہیں امریکہ تک کافی شدت پکڑ چکا ہے۔ سات اکتوبر کے بعد اس تشدد پسندانہ ذہنیت کا اظہار سب سے پہلے ایک ستر سالہ امریکی شہری کی طرف سے کیا گیا جس نے اپنے ہی کرائے داروں کے چھ سالہ بچے کو چھرا گھونپ کر ہلاک کر دیا جبکہ اس کی فلسطینی ماں کو اسی چھرے سے زخمی کر دیا۔

بعد ازاں ایک اور واقعے میں ایک ہی شخص نے تین فلسطینیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ تینوں فلسطینی سٹوڈنٹس تھے جو معروف اور روایتی فلسطینی شناخت کے حامل کیفیہ اوڑھے ہوئے تینوں میں سے ایک فلسطینی ساتھی کے عزیزوں کے گھر جا رہے تھے کہ راستے میں ان پر فائرنگ کر کے انہیں ہلاک کر دیا گیا۔

مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کو اسرائیلی فوج کی پرانی سرپرستی حاصل ہے اس لیے وہ پہلے سے بھی زیادہ تشدد پسند ہو کر فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

لیکن ایک اہم امر یہ ہے کہ مغربی ممالک، امریکہ ، اقوام متحدہ اور امریکی ذرائع ابلاغ جس طرح بے دھڑک ہو کر کسی شک والے واقعے میں بھی بڑی سہولت اور اہتمام کے ساتھ مسلمانوں کو دہشت گرد لکھتے ہیں ان مغربی کنارے میں تشدد کے ذمہ داروں کو یہودی نہیں لکھتے محض آباد کار لکھتے ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کے لیے فٹا فٹ دہشت گرد کا لقب مسلط کر دیتے ۔

البتہ انہیں انتہا پسند لکھنا کچھ لوگ اب شروع ہو گئے۔ لیکن یہودی کا لفظ نہیں لکھ رہے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ نے اپنی ' ایک پوسٹ میں کہا ہے' انتہا پسند آباد کار سویلینز کی ٹارگیٹ بناتے ہیں۔ وہ اسرائیل اور حماس دونوں کے لیے سلامتی و استحکام کے مسئلے پیدا کرتے ہیں۔'

اپنی ہوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے ' اسرائیل کو ضرور ان آباد کاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنا چاہیے۔ ' ڈیوڈ کیمرون نے لکھا ہے '

ہم اپنے ملک میں ایسے متشدد افراد کے داخلے پر پابندی لگا رہے ہیں۔ کیونکہ برطانیہ نہیں چاہتا ہے کہ کہ اس کی سرزمین ایسے لوگوں کے لیے گھر بن جائے۔' لیکن یہ میکانزم سامنے نہیں آیا کہ کس یہودی آباد کار کو متشدد کہا جائے گا اور اس کا انحصار اسرائیلی حکومت کی تصدیق پر ہوگا ، یا فلسطینیوں کی شکایات پر یا پھر برطانیہ کے اپنے سفارت خانے کی سفارشات پر۔

اس سے قبل یورپی یونین میں بھی اسی موضوع پر بحث کی ہے۔ مغربی کنارے کے کے متشدد یہودی آباد کاروں کو یورپی یونین کے ممبر ملکوں کے ویزے نہ دیے جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں