آبنائے باب المندب میں جہاز سے 50 میٹر کے فاصلے پر دھماکہ ہوا: برٹش میری ٹائم اتھارٹی

خود کو یمن نیوی قرار دینے والے ادارے نے بحری جہاز کو یمن کی طرف اپنا راستہ تبدیل کرنے کا حکم دیا: اتھارٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی بحریہ کی ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے جمعرات کو کہا کہ اسے آبنائے باب المندب میں ایک بحری جہاز سے اطلاع ملی ہے کہ اس سے 50 میٹر کے فاصلے پر ایک دھماکہ ہوا ہے۔ اتھارٹی نے دھماکے کے بارے میں کوئی اور تفصیلات نہیں بتائیں لیکن اس نے بحری جہازوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دینے کی تجویز دی۔

اتھارٹی نے ایکس پر اعلان کیا کہ اسے ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خود کو "یمن نیوی" کے طور پر شناخت کرنے والے ادارے نے ایک بحری جہاز کو یمن کی طرف اپنا راستہ تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے کچھ دیر قبل اتھارٹی نے کہا تھا کہ حکام یمن کے ساحل سے دور باب المندب کے قریب ایک واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ پھر بعد میں اعلان کیا کہ اسے بحیرہ عرب میں ایک اور واقعے کی اطلاع ملی ہے۔

یاد رہے بدھ کو اتھارٹی کو ایک رپورٹ بھی موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ یمنی بندرگاہ حدیدہ کے مغرب میں بحیرہ احمر کی طرف نظر آنے والی ایک چھوٹی مسلح کشتی کے ذریعے تجارتی جہاز کا تعاقب کیا جا رہا تھا۔ اس کشتی میں تین بندوق بردار سوار تھے جن کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ بحری جہاز کے حفاظتی عملے نے ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا اور پھر علاقہ چھوڑ دیا۔

یو ایس سنٹرل کمانڈ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس کے ایک تباہ کن جہاز نے بحیرہ احمر میں مارشل آئی لینڈ کا جھنڈا لہرانے والے ایک ٹینکر کی طرف سے آنے والی پریشانی کی کال کا جواب دیا۔ ٹینکر پر حو ثیوں کے حملے کا بتایا گیا تھا تاہم یہ حملہ ناکام ہوا اور امریکی جہاز نے اسے نشانہ بنانے والے ڈرون کو مار گرایا۔ سینٹرل کمانڈ نے "ایکس" پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک بیان میں مزید کہا کہ حوثی جنگجوؤں نے کشتیوں کے ذریعے ٹینکر پر چڑھنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہونے کے بعد حوثیوں نے یمن میں اپنے کنٹرول والے علاقوں سے ٹینکر پر دو میزائل داغے لیکن وہ اسے مارنے میں ناکام رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں