فلسطین اسرائیل تنازع

سعودی اور امریکی اعلیٰ فوجی حکام کے درمیان غزہ اور حوثیوں کے ایشو پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ کے چیف آف سٹاف جنرل براؤن نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک ان تمام اقوام کے ساتھ کام کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جن کے باہمی مفادات یکساں ہیں اور جو آزادی کے اصولوں کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ اور جہاز رانی کے لیے محفوظ راستوں پر یقین رکھتے ہیں

امریکی فوجی حکام اور ان کے سعودی ہم منصب نے یہ تبادلہ خیال جمعرات کو فون کال پر کیا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بات کرسکیں اور اس کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے کو زیر بحث لا سکیں۔

امریکی فوجی ذمہ دار اور ان کے سعودی ہم منصب کے درمیان مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور امریکی افواج کو درپیش خطرات کا موضوع زیر بحث آیا۔ 7 اکتوبر کے بعد سے اب تک شام اور عراق سمیت مختلف جگہوں پر امریکی افواج پر 97 بار حملوں کی کوشش کی جاچکی ہے۔

امریکی دفاعی حکام نے العربیہ کو بتایا کہ اس ہفتے میں بھی 5 حملے امریکی افواج پر ہوچکے ہیں۔ ان حملوں میں سے اکثر ناکام ہوئے ہیں اور کوئی قابلِ ذکر نقصان نہیں ہوا ہے۔

ایران اور اس کے حمایت یافتہ جنگجو گروپ امریکہ کی خطے میں موجودگی کی مخالفت کرتے ہیں، تاہم اسرائیل حماس جنگ کے بعد ان حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ پینٹاگون اس بات کو مسترد کیا ہے کہ ان حملوں کا غزہ کی جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ کہ امریکہ کے جنرل براؤن اور سعودی جنرل فیاض الرویلی نے اس تبادلہ خیال میں بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملے خاص طور پر زیر بحث آئے۔

ایرانی حمایت حوثیوں نے دھمکی دے رکھی ہے کہ کوئی بھی تجارتی جہاز اسرائیل کے لیے سامان کے کر جائے گا تو ہم اس کو روکے گے۔ حوثیوں نے یہ اعلان غزہ میں مسلسل بمباری ، غزہ کی ناکہ بندی اور غزہ میں امدادی سامان میں اسرائیلی رکاوٹوں کے جواب میں کیا ہے اور حوثیوں نے گزشتہ ہفتوں کے دوران بعض جہازوں کو اغواء بھی کیا ہے اور ان کو نشانہ بھی بنایا ہے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل امریکی اور سعودی وزرائے دفاع کے درمیان بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں