یمن کی طرف سے نشانہ بنائے جانے پر بحیرہ احمر میں جہاز کو آگ لگ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

' لائیبریا سے تعلق رکھنے والے ایک کارگو جہاز کو اس وقت آگ لگ گئی جب جمعہ کے روز اسے یمن کی طرف سے داغے گئے راکٹوں کا نشانہ بنایا گیا۔ امریکی دفاعی حکام نے اس بارے میں نجی انٹیلی جنس ادارے کے حوالے سے تصدیق کی ہے، تاہم اپنی معلومات کو الگ سے شئیر نہیں کیا ہے۔

الجسرہ پر حملہ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی جنگ مہم کو تیز ہوتا دکھاتا ہے۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں متعدد جہازوں کو بحیرہ احمر میں اس طرح کے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

حوثی ان حملوں کو اسرائیل کے غزہ میں فلسطینیوں پر حملوں کا جواب قرار دیتے ہیں۔ جمعہ کے روز لائبیریا کے کارگو جہاز پر کیے گئے اس حملے کی حوثیوں نے ابھی تک ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ نہ ہی اس بارے میں کوئی تبصرہ کیا ہے۔

امریکی حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے' یہ انٹیلی جنس سے متعلق معاملہ ہے، اس کی تصدیق ایک نجی انٹیلی جنس ایجنسی نے بھی کی ہے۔'

ایمبری نامی نجی انٹیلی جنس ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق راکٹ حملہ جہاز کو بندر گاہ کی طرف لگا اور اس پر لدا ہوا کنٹینر گر گیا ، راکٹ کی وجہ سے جہاز کے عرشے پر آگ بھڑک اٹھی۔ یہ چیز بعد ازاں ریڈیو سے بھی نشر کی گئی۔

الجسرہ اک جمنی میں قائم کمپنی کے ذریعے چلایا جاتا ہے، تاہم اس جرمن کمپنی نے فوری طور پر تبصرے سے انکار کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ ابھی اس کے پاس ابھی ایسی کوئی مصدقہ اور پوری اطلاع نہیں ہے۔ یہ حملہ کیسے ہوا۔ یہ حملہ ڈرون سے کیا گیا تھا یا اس کے علاوہ کوئی میزائل حملہ تھا۔

ایمبری کے مطابق جرمنی جہازراں کمپنی کا دفتر اسرائیلی بندرگاہ میں ہے۔ جمعرات کے روز بھی حوثیوں کی طرف سے بلیسٹک میزائل فائر کیا گیا تھا ، تاہم یہ کنٹینر لے جانےوالے جہاز کو لگنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی طرف سے اس طرح کے حملے اب معمول بن چکے ہیں۔

بین الاقوامی کمپنیوں کے تجارتی جہازوں کو مسلسل نشانہ بنانے سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی آمدو رفت متاثر ہوچکی ہے۔ امریکہ اس بارے میں کافی تشویش میں مبتلا ہے اور خطے میں اپنے اتحادیوں سے مشاورت کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں