اسرائیل تشدد کرنے والے آباد کاروں کیخلاف اقدام کرے: 13 مغربی ملکوں کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور فرانس سمیت ایک درجن سے زائد ملکوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد سے نمٹنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے۔

ان ملکوں نے برطانوی حکومت کی طرف سے آج جمعہ کو شائع ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسند آباد کاروں کے تشدد کی شرح میں یہ اضافہ ناقابل قبول ہے۔ فلسطینی برادریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اب فعال اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے جمعرات کو کہا تھا کہ یورپی یونین کے اسی طرح کے اقدام کے بعد فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کے ذمہ داروں کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

آسٹریلیا، بیلجیئم، کینیڈا، ڈنمارک، یورپی یونین، فن لینڈ، فرانس، آئرلینڈ، لکسمبرگ، ہالینڈ، ناروے، سپین، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے تحفظ اور انتہا پسند آباد کاروں کے خلاف مقدمہ چلانے میں ناکام ہے۔ آباد کاروں کا تشدد گھناؤنی سطح تک پہنچ گیا لیکن انہیں کچھ بھی کرنے کی چھوٹ دی جارہی ہے۔ اس سے مغربی کنارے اور خطے میں سلامتی کو نقصان پہنچ رہا اور دیرپا امن کے امکانات کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر کے آغاز سے اب تک آباد کاروں نے 343 سے زائد پرتشدد حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے آٹھ فلسطینی شہری جاں بحق، 83 سے زیادہ زخمی اور 126 اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں